آگرہ میں بنگالیوں کو تبدیلی مذہب کیلئے لالچ

آگرہ ۔ 10 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) آگرہ میں آر ایس ایس کی جانب سے مسلمانوں کو جبر اور لالچ کے ساتھ ہندو بنانے کی کوششوں کے حالیہ واقعہ کے پس منظر میں تحقیقات سے معلوم ہوا ہیکہ ہندوتوا تنظیموں کے کارکنان کچھ عرصہ سے اس سرگرمی میں ملوث ہے۔ آگرہ کے وید نگر کی سلم بستی میں 350 کے لگ بھگ بنگالی لوگوں کی مسلم برادری رہتی ہے۔ وہاں کی اسکراپ ڈیلر ممتاز بیگم کو مبینہ طور پر تبدیلی مذہب کے حالیہ واقعہ میں شامل کیا گیا۔ ممتاز بیگم کے مطابق انہیں بی پی ایل راشن کارڈ اور اسی طرح حکومت کی دیگر مراعات فراہم کرنے کا لالچ دیتے ہوئے مذہب تبدیل کرنے کی ترغیب دی گئی۔ ممتاز نے بتایا کہ یہی حال دیگر مسلمانوں کا ہوا جن کو آر ایس ایس کی تنظیم نے اپنا مذہب تبدیل کرنے پر اکسایا۔ یہاں کے لوگ زیادہ تر مغربی بنگال سے نقل مقام کرکے 15 تا 20 سال قبل آ کر یہاں بسنے والوں میں سے ہے۔ اب مقامی لوگوں کا تاثر ہیکہ بنگالیوں نے اس علاقہ کو بدنام کیا ہے۔