والدین اور آٹو ڈرائیورس کو اس سنگین مسئلہ پر توجہ دینا ضروری
حیدرآباد ۔ 20 ۔ نومبر : ( نمائندہ خصوصی) : صبح ہوتے ہی شہر کی سڑکوں پر سینکڑوں ایسے آٹوز دکھائی دیں گے جن میں 10 تا 15 اسکولی بچے سوار ہیں ۔ آٹو کی چھت پر ان کے بیاگس رکھ دئیے گئے ہیں ۔ کوئی بچے ڈرائیور کے بازو بڑی مشکل سے بیٹھتے ہیں تو کوئی اپنے جسم کا نصف حصہ آٹو کے باہر لٹکائے کھڑا ہے ایسا لگتا ہے کہ ان آٹوز میں ہمارے معصوم ہونہار بچے جنہیں ہم اپنے ملک کا مستقبل کہتے ہیں ۔ اپنی مرضی سے سوار نہیں ہوئے بلکہ کسی ظالم نے انہیں مرغیوں اور جانوروں کی طرح اس میں زبردستی ٹھونس دیا ہو ۔ یہ تو اسکول جانے کا منظر ہے واپسی کے بعد خود جب ہم اپنے بچوں کی حالت دیکھتے ہیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ آٹو میں گنجائش سے زیادہ بچوں کی موجودگی اور خراب سڑکوں کے باعث ہونے والے جھٹکوں نے انہیں بے دم کر کے رکھ دیا ہے ۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر بچوں کے ساتھ روا رکھی جارہی اس بے رحمی کے لیے کون ذمہ دار ہیں ۔ والدین ، آٹو رکشا راں یا پھر قانون نافذ کرنے والی ایجنسیاں بشمول ہماری ’’ ڈسپلین ‘‘ کی پابند پولیس ؟ اس سوال کا جواب یہی ہے کہ اس کے لیے والدین آٹو رکشاراں اور پولیس سب کے سب ذمہ دار ہیں ۔ جہاں تک والدین کا معاملہ ہے ہوسکتا ہے کہ وہ اپنی معاشی مجبوری کے تحت اپنے جگر کے تکڑوں کو آٹوز میں اسکول بھیجنے پر مجبور ہوں لیکن اپنی اولاد کی بہتر تعلیم و تربیت کے لیے اپنا سکون و چین برباد کرنے والے والدین کی یہ ذمہ داری بھی ہے کہ وہ یہ دیکھیں کہ ان کا نور نظر اور ان کا لخت جگر جس آٹو میں اسکول جاتے ہیں اس میں اور کتنے بچے بیٹھتے ہیں ۔ کیا کبھی ان لوگوں نے ڈرائیور کو اس جانب توجہ دلائی ہے ؟ بچے تو معصوم ہوتے ہیں لیکن اکثر دیکھا گیا ہے کہ وہ اسکول جانے اور آنے کے وقت انہیں آٹوز میں پیش آنے والی مشکلات کی شکایت کرتے ہیں ۔ لیکن ان کے والدین اسے نظر انداز کردیتے ہیں حالانکہ ان معصوموں کی شکایت پر سنجیدگی سے غور کیا جائے تو یہ ایک طرح سے آنے والی مصیبت کو ٹالنے کا اشارہ ہوتا ہے ۔ بچوں کے سرپرستوں کو یہ اچھی طرح جان لینا چاہئے کہ اپنی جان سے زیادہ عزیز اولاد کی اس ایک شکایت پر اگر توجہ دی جائے تو مستقبل میں ایک بڑے سانحہ سے بچا جاسکتا ہے کیوں کہ آئے دن اخبارات اور ٹی وی چیانلس پر یہ خبریں دیکھنے کو ملتی ہیں کہ فلاں مقام پر حادثہ میں اسکولی بچے گر کر شدید زخمی ہوگئے ۔ حادثہ کی اہم وجہ آٹو میں گنجائش سے زائد بچوں کی تعداد تھی ۔ ان حالات میں والدین پر سب سے بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ کچھ پیسوں کی بچت کے لیے اپنے بچوں کی زندگیوں کو خطرہ میں نہ ڈالیں ۔ اب رہی بات اس تمام قصہ کے اہم کردار آٹو ڈائیورس کی تو ان کے معاملہ میں یہ کہنا ضروری ہوگا کہ بے شک بڑھتی مہنگائی ، غربت اور فینانسروں نے ان بیچاروں کی زندگیاں اجیرن کر کے رکھ دی ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ایک ٹرپ میں زیادہ سے زیادہ بچوں کو اسکول پہنچانے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں تاکہ اس سے وقت بھی بچ جائے اور پٹرول کا خرچ بھی زیادہ نہ ہو ۔ لیکن غربت کے مارے ان آٹو ڈرائیورس کو یہ بھی سمجھنا چاہئے کہ بے شک انہیں کئی مسائل کا سامنا ہے لیکن پیسہ ہی سب کچھ نہیں ہوتا ۔ انسانیت سب سے بڑی دولت ہے ۔ غیر انسانی اور غیر قانونی کام سے انہیں بچنا چاہئے ورنہ تھوڑے سے وقت میں زیادہ پیسے کمانے کی حرص انہیں کئی ایک مسائل میں پھنسا سکتی ہے ۔ ایک تو حادثات کا خوف دوسرے پولیس کے جرمانے ان کی مشکلات میں اضافہ کرسکتے ہیں ۔ انہیں چاہئے کہ وہ ایمانداری اور جذبہ انسانیت کے ساتھ عوام کی خدمت کریں ۔ اب رہی ہماری پولیس اگرچہ اس نے اسکولی بچوں کو لے جانے والے آٹوز پر لکھ دیا ہے کہ ان آٹوز میں 6 سے زیادہ طلباء نہیں بیٹھ سکتے ، ورنہ قانونی کارروائی کی جائے گی اور آٹو ضبط کیا جائے گا لیکن اس پر عمل آوری ہوتی دکھائی نہیں دے رہی ہے ۔ یہ حقیقت ہے کہ جمہوری نظام میں تباہی و بربادی کی اہم وجہ رشوت ستانی ہے جس کے باعث ہر کسی میں غیر قانونی کام کرنے کی جرات اور ہمت پیدا ہوتی ہے ۔ بہر حال یہاں ضرورت اس بات کی ہے کہ صرف تھوڑے سے پیسے بچانے یا قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے آمدنی بڑھانے یا پھر رشوت کے ذریعہ تمام غیر قانونی کاموں سے انجان بن جانا جیسی حرکتوں سے معاشرہ کو احتراز کرنا چاہئے ۔ تب ہی ہم اپنے بچوں کا مستقبل محفوظ بنا سکتے ہیں ۔۔