حیدرآباد 7 جون ( سیاست نیوز ) آندھرا پردیش کے نامزد چیف منسٹر مسٹر این چندرا بابو نائیڈو اپنی ریاست میں زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری لانے کیلئے کوششیں شروع کرچکے ہیں۔ مسٹر نائیڈو صنعتکاروں کے ساتھ بات چیت میں مصروف ہیں۔ اب تک انہیں مختلف صنعتکاروں سے آندھرا پردیش کی نئی ریاست میں 5,600 کروڑ روپئے تک کی سرمایہ کاری کے تیقنات حاصل کرلئے ہیں۔ انڈین ڈیولپمنٹ فورم کی جانب سے مسٹر نائیڈو سے اس سرمایہ کاری کا وعدہ کیا گیا ہے ۔ مسٹر نائیڈو کسانوں کیلئے قرض معافی اسکیم پر عمل آوری کی حکمت عملی پر غور کر رہے ہیں۔ کہا گیا ہے کہ اگر تمام اہل کسانوں کے قرضہ جات معاف کئے جائیں تو نئی حکومت پر تقریبا 80,000 کروڑ روپئے کا بوجھ عائد ہوگا ۔ حکومت کے سامنے اصل مسئلہ یہ ہے کہ سرکاری خزانہ پر معاشی بوجھ کو کم سے کم کرتے ہوئے اس اسکیم پر عمل آوری کرے ۔ سمجھا جا رہا ہے کہ زرعی قرضہ جات کی معاشی کیلئے بینکرس کو رقم کی بجائے بانڈز کی اجرائی پر بھی غور ہو رہا ہے ۔ سمجھا جاتا ہے کہ مسٹر نائیڈو نے بانڈز کی اجرائی کے تعلق سے ذہن بنا لیا ہے اور وہ بینکرس سے وعدہ کر رہے ہیں کہ اس اسکیم کے قرضہ جات حکومت کی جانب سے تیسرے معاشی سال میں ادا کئے جائیں گے ۔ مسٹر نائیڈو 8 جون کو چیف منسٹر کی حیثیت سے حلف لینے کے بعد فصل کے قرض معاف کرنے کی فائیل پر دستخط کرنے کا فیصلہ کرچکے ہیں ایسے میں وہ نئی حکومت کو درپیش معاشی بوجھ کا جائزہ لینے میں مصروف ہیں اور اپنے وعدہ پر عمل آوری پر غور کر رہے ہیں۔ ابھی یہ واضح نہیں ہوا ہے کہ حکومت صرف زرعی قرض معاف کریگی یا کسانوں کی جانب سے سونے کے عوض حاصل کردہ قرضہ جات کو بھی معاف کیا جائیگا ۔