شہریوں کو بھی فوائد ، چیف منسٹر اے پی چندرا بابو نائیڈو کی پرکشش ترغیبات
حیدرآباد۔/11ڈسمبر، ( سیاست نیوز) حکومت آندھرا پردیش کی جانب سے صدر مقام کی تعمیر کیلئے حصول اراضیات کی جو پالیسی مرتب کی گئی ہے اس کے مطابق صدر مقام کی تعمیر و ترقی میں اراضیات حوالے کرنے والے آندھرا پردیش کے شہریوں کو زبردست فوائد حاصل ہونے کے امکانات ہیں۔ چیف منسٹر آندھرا پردیش مسٹر این چندرا بابو نائیڈو نے دو یوم قبل ریاست آندھرا پردیش کے صدر مقام کی تعمیر و ترقی کیلئے حصول اراضی کا جو منصوبہ پیش کیا ہے اس کے مطابق پٹہ اراضی رکھنے والے خاندانوں کو 1000مربع گز رہائشی اراضی فراہم کی جائے گی جبکہ 200 مربع گز کمرشیل اراضی بہ عوض فی ایکر حوالہ کی جائے گی۔ اسی طرح حکومت آندھرا پردیش نے اسائنڈ لینڈ ( تفویض کردہ زمین) اراضیات حوالے کرنے والوں کو 800مربع گز رہائشی اراضی فراہم کی جائے گی جبکہ 200گز کا کمرشیل پلاٹ بھی حوالہ کیا جائے گا۔ جائیداد مالکین کو سالانہ زرعی نقصانات کے عوض 30ہزار روپئے حکومت نے جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو کہ 10سال تک جاری کئے جاتے رہیں گے۔ اسی طرح خشک اراضی کے مالکین کو 3000 روپئے سالانہ اور جریب اراضیات مالکین کو 50 ہزار روپئے سالانہ جاری کئے جائیں گے۔ ہر سال ان رقومات میں 5ہزار روپئے کا اضافہ ہوتا رہے گا۔حکومت آندھرا پردیش کی جانب سے اختیار کردہ اراضیات کی پالیسی سے آندھرا پردیش کے شہریوں کو فائدہ حاصل ہورہا ہے اور حکومت کے منصوبوں کے باعث آندھرا پردیش کے بیشتر اضلاع میں اراضیات کی قیمتوں میں بتدریج اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ چیف منسٹر آندھرا پردیش مسٹر این چندرا بابو نائیڈو کی جانب سے صدر مقام کی تعمیر و ترقی کیلئے سنگاپور سے کئے گئے معاہدہ اور پھر جاپان سے متوقع معاہدہ سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت آندھرا پردیش ریاست کے صدر مقام کو عالمی طرز کے شہر کے طور پر فروغ دینے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ نئے صدر مقام کی تعمیر سے ریاست کو جو فائدہ ہوگا اس میں سب سے اہم فائدہ آندھرا پردیش کو منصوبہ بند شہر ملنے کی توقع ہے۔ چونکہ جس مقام پر کچھ نہ ہو وہاں عصری سہولیات سے آراستہ شہر کی تعمیر و ترقی دشوار کن نہیں ہوتی۔ چیف منسٹر آندھرا پردیش کی جانب سے ان ہی اُمور کو نظر میں رکھتے ہوئے خالی اراضیات کی نشاندہی کے بعد ہی صدر مقام کے انتخاب کا تعین کیا گیا ہے۔ مسٹر نائیڈو نے صدر مقام کی تعمیر کیلئے جو منصوبہ تیار کیا ہے اس کے مطابق ریاست آندھرا پردیش ملک کی منفرد ریاست ہوگی جہاں دور حاضر کا ہر عصری سہولت سے آراستہ صدر مقام موجود ہوگا۔