آندھرا پردیش کے بجٹ میں شدید مالی خسارہ

حیدرآباد۔/20اگسٹ، ( سیاست نیوز) وزیر فینانس آندھرا پردیش مسٹر وائی رام کرشنوڈو نے سال2029 تک آندھرا پردیش کو ’’ سورنا آندھرا پردیش ‘‘ ( سنہرے آندھرا پردیش ) میں تبدیل کرنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے ریاست آندھرا پردیش کا سال 2014-15 کیلئے 1,11,824 لاکھ روپئے پر مبنی بجٹ آج اسمبلی میں پیش کیا جس میں نئے محاصل عائد کرنے سے گریز کیا گیا ہے۔ اپنی بجٹ تقریر کرتے ہوئے وزیر فینانس نے کہا کہ آندھرا پردیش کی ترقی کیلئے ’’ سات مشنس ‘‘ تشکیل دیئے گئے ہیں اور ریاست کی تقسیم سے آندھرا پردیش کا مالی خسارہ انتہائی سنگین مسئلہ بن گیا۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ دو سال سے ریاست کا مالی موقف ابتر و بدترین ہوکر رہ گیا ہے۔

وزیر فینانس نے اپنی بجٹ تقریر میں آندھرائی طلبہ کو اس بات کی طمانیت دی کہ فیس ری ایمبرسمنٹ کی ادائیگی کیلئے حکومت آندھرا پردیش پابند ہے اور حکومت کی ہر اسکیم کو آدھار کارڈ سے مربوط کیا جائے گا۔ علاوہ ازیں تلگودیشم زیر قیادت حکومت آندھرا پردیش بنیادی ضروریات کی تکمیل کیلئے خصوصی توجہ دے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ’’ این ٹی آر انا ‘‘ کے نام سے موسوم آندھرا پردیش میں کینٹین قائم کرنے کی کوشش کا آغاز کرچکی ہے۔ مسٹر وائی رام کرشنوڈو نے کاپو اور برہمن طبقات کی فلاح و بہبود کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ان طبقات کیلئے ترجیحی بنیاد پر بجٹ میں رقومات مختص کی گئی ہیں اور کاپو طبقات کو بیاک ورڈ کلاسیس میں شامل کرنے کیلئے کمیشن کا قیام عمل میں لایا جائے گا اور پسماندہ طبقات کی فلاح و بہبود کیلئے حکومت نہ صرف پابند ہے بلکہ اولین ترجیح دی جائے گی۔ انہوں نے اپنی بجٹ تقریر کے دوران ایوان کو اس بات سے واقف کروایا کہ ویژن 2020 پر از سر نو غور کرنے عمل آوری کیلئے اقدامات کرنے کا حکومت نے فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے ای پے منٹ کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ای پے منٹ طریقہ کار کے ذریعہ ہی حصول اراضیات کا معاوضہ متعلقہ افراد کو ادا کیا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ پسماندہ طبقات کی بہبود کیلئے بجٹ میں 3130 کروڑ روپئے مختص کئے گئے ہیں۔ جبکہ اقلیتی طبقات کی فلاح و بہبود کا تذکرہ کرتے ہوئے وزیر فینانس مسٹر وائی رام کرشنوڈو نے کہا کہ تلگودیشم حکومت نے سال 2014-15کیلئے اقلیتوں کی بہبود کیلئے بجٹ میں 371 کروڑ روپئے مختص کئے گئے ہیں ۔ انہوں نے اقلیتوں سے متعلق اپنا اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ معاشی ترقی میں اقلیتوں کیلئے مناسب رقومات فراہم کی جارہی ہیں اور موجودہ روبہ عمل لائی جانے والی اسکیمات و پروگراموں کا تذکرہ کرتے ہوئے ان اسکیمات اور نئی اسکیمات کے ذریعہ اقلیتوں کو ملازمتوں کے مواقع فراہم کرنے خود روزگار اسکیمات کیلئے اقلیتوں کی معاشی و مالیاتی ترقی کی اسکیمات کیلئے مناسب رقمی سہولیات فراہم کرنے کے اقدامات کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی و ریاستی اداروں میں ملازمتوں کے حصول کیلئے درکار سہولتیں فراہم کرنے، فنی تربیت فراہم کرنے کے اقدامات کئے جائیں گے۔ انہوں نے اقلیتی طبقہ کے طلباء کیلئے پری میٹرک، پوسٹ میٹرک اسکالر شپس کی منظوری، بینکوں کے ذریعہ فراہم کئے جانے والے قرضوں کیلئے سبسیڈی کی فراہمی، ہاسٹلس کی تعمیر، اقامتی مدارس کا قیام، مسابقتی امتحانات کیلئے مناسب ٹریننگ پروگرامس محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے انجام دیئے جارہے ہیں۔ علاوہ ازیں اقلیتوں کی فلاح و بہبود کیلئے دوکان و مکان، روشنی جیسے نئے پروگرامس و اسکیمات کو موثر انداز میں روبہ عمل لانے کیلئے اقدامات کئے جائیں گے۔