آندھرا پردیش کی 113 بلدیات تین زمروں تک محدود

اسمارٹ سٹیز کے طور پر ترقی ، جونیر ڈاکٹرس کی ہڑتال نظر انداز : کابینہ کا اجلاس
حیدرآباد ۔ 16 ۔ فروری : ( سیاست نیوز ) : آندھرا پردیش کی ریاستی کابینہ نے ریاست کی 113 بلدیات کو تین زمروں تک محدود کر کے اختیارات و رقومات فراہم کرنے کے ذریعہ اسمارٹ سٹیز کے طور پر ترقی دینے کا فیصلہ کیا ہے اور ساتھ ہی ساتھ آندھرا پردیش میں واقع ہر میونسپل کارپوریشن کے لیے آئی اے ایس عہدیدار کو تعینات کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ۔ آج یہاں ریاستی سکریٹریٹ میں منعقدہ تقریبا 5 گھنٹے طویل کابینی اجلاس کے اختتام پر اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے وزیر اطلاعات و تعلقات عامہ مسٹر پی رگھوناتھ ریڈی نے یہ بات بتائی اور کہا کہ چیف منسٹر آندھرا پردیش مسٹر این چندرا بابو نائیڈو کی صدارت میں کابینہ کا اجلاس منعقد ہوا اور کئی ایک فیصلے کئے گئے ۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ عرصہ کے دوران آندھرا پردیش میں جونیر ڈاکٹروں کی جانب سے کی گئی 8 روزہ ہڑتال کو معاف کرنے (نظر انداز کرنے ) کا کابینہ نے فیصلہ کیا ۔ وزیر موصوف نے مزید بتایا کہ کابینہ نے آئندہ ماہ میں مرکزی وزیر صحت کے ہاتھوں آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنس کے لیے سنگ بنیاد رکھوانے کا فیصلہ کیا اور مقام کا بھی تعین کرتے ہوئے ماہ مارچ میں جب کبھی بھی مرکزی وزیر صحت مسٹر نندن وقت مقرر کریں گے تب مرکزی وزیر کے ہاتھوں منگل گیری ( گنٹور ) کے مقام پر آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسیس کے قیام کے لیے سنگ بنیاد رکھوایا جائے گا ۔ کابینہ نے پولاورم تا کرشنا ڈائیورشن اسکیم کے لیے کاموں کا آغاز کرنے کا فیصلہ کیا جب کہ چیف منسٹر مسٹر این چندرا بابو نائیڈو اس اسکیم کے کاموں کا جاریہ ہفتہ ہی آغاز کریں گے ۔ علاوہ ازیں ریاست آندھرا پردیش میں زیر التواء تمام آبپاشی پراجکٹوں کے کاموں میں تیزی پیدا کرنے اور جلد سے جلد ان پراجکٹس کے کاموں کو مکمل کر کے آبپاشی سہولتوں میں اضافہ کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ۔ ریاست آندھرا پردیش میں پانی اور درخت پروگرام کو بھی بڑے پیمانے پر روبہ عمل لانے ، ماحولیات کے تحفظ کو یقینی بنانے موثر اقدامات کرنے ، آندھرا پردیش میں دستیاب 574 ٹی ایم سی پانی جو سمندر میں ہر سال ضائع ہورہا ہے اس پانی سے مکمل استفادہ کر کے آندھرا پردیش کے اضلاع میں آبپاشی سہولتوں کی فراہمی کے ذریعہ خشک سالی صورتحال کا بھی تدارک کرنے موثر اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ۔ انہوں نے بتایا کہ آندھرا پردیش میں ریت مافیا کا تدارک کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر اقدامات کرنے اور سرخ صندل کی اسمگلنگ کا انسداد کرنے کے لیے بھی اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا ۔۔