آندھرا پردیش میں قومی سطح کے 11اداروں کا قیام

کرشنا اور گنٹور کے درمیان صنعتی مرکز۔ چندرا بابو نائیڈو کی مساعی

حیدرآباد۔/19جون، ( سیاست نیوز)آندھرا پردیش کے چیف منسٹر این چندرا بابو نائیڈو نے نئی ریاست میں 11 قومی سطح کے اداروں کے قیام کو منظوری دی ہے۔ آندھرا پردیش تنظیم جدید قانون کے تحت آندھرا پردیش ریاست کو دی گئی مراعات کے سلسلہ میں چندرا بابو نائیڈو نے اپنی ریاست کی ترقی کی مساعی کا آغاز کردیا ہے۔ وہ نئے دارالحکومت کے قیام کے ساتھ ساتھ صنعت اور انفارمیشن ٹکنالوجی کے شعبوں میں ترقی پر توجہ مرکوز کرچکے ہیں۔ آندھرا پردیش کے دارالحکومت کو سنگاپور کی طرز پر قائم کرنے کا عہد کرنے والے چندرا بابو نائیڈو نے مختلف بیرونی اداروں سے ربط قائم کرتے ہوئے آندھرا پردیش میں سرمایہ کاری کی خواہش کی ہے۔ گذشتہ دنوں سنگاپور کے ہائی کمشنر نے بھی چندرا بابو نائیڈو سے ملاقات کی۔ اگرچہ چندرا بابو نائیڈو نے سکریٹریٹ میں باقاعدہ طور پر آج اپنے عہدہ کا جائزہ لیا، لیکن 8جون کو چیف منسٹر کی حیثیت سے حلف برداری کے ساتھ ہی انہوں نے آندھرا پردیش میں سرمایہ کاری اور نئے اداروں کے قیام پر توجہ مرکوز کردی۔ چندرا بابو نائیڈو نے جن 11قومی سطح کے اداروں کو منظوری دی ہے وہ آندھرا پردیش ریاست کے تینوں علاقوں کا احاطہ کریں گے جن میں رائلسیما، ساؤتھ آندھرا اور نارتھ آندھرا شامل ہیں۔200ایکر اراضی پر آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسس، 300ایکر اراضی پر نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی، 500ایکر اراضی پر اگریکلچر یونیورسٹی اور 10ایکر اراضی پر نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے قیام کا فیصلہ کیا گیا۔ یہ ادارے کرشنا اور گنٹور اضلاع کے درمیان میں قائم کئے جائیں گے جہاں پر آندھرا پردیش حکومت نئے دارالحکومت کے قیام کا منصوبہ رکھتی ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق یہ علاقہ مستقبل میں آندھرا پردیش کا صنعتی مرکز بن سکتا ہے۔چندرا بابو نائیڈو نے مختلف بیرونی اداروں سے خواہش کی کہ وہ آندھرا پردیش کے صدر مقام کی تعمیر میں تعاون کریں۔ آندھرا پردیش عوام کو اپنی ریاست کے دارالحکومت کی تعمیر سے جذباتی طور پر جوڑنے کیلئے چندرا بابونائیڈو نے آندھرا پردیش کے عوام سے اپیل کی کہ وہ دارالحکومت کی تعمیر میں اپنی حصہ داری کے طور پر کم از کم ایک روپیہ یا ایک اینٹ بطور عطیہ حکومت کو دیں۔