حیدرآباد ۔ 18 ۔ اپریل : ( ایجنسیز ) : آندھرا پردیش سے تعلق رکھنے والے کم از کم 87 ارکان اسمبلی اور 16 ارکان پارلیمنٹ کے خلاف ہندوستانی تعزیرات ہند کے تحت سنگین جرائم یا انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے فوجداری مقدمات درج ہیں ۔ فورم برائے گڈ گورننس نے یہ اطلاع دیتے ہوئے کہا کہ تقریبا تمام جماعتوں جیسے کانگریس ، تلگو دیشم ، وائی ایس آر پارٹی ، ٹی آر ایس ، بی جے پی ، سی پی آئی ، لوک ستہ اور مجلس کے ارکان اسمبلی مجرمانہ ریکارڈ رکھتے ہیں ۔ بتایا گیا کہ 87 ارکان اسمبلی اور 16 ارکان پارلیمنٹ کے خلاف بالترتیب 203 اور 38 کیس درج ہیں ۔ ان میں قابل ذکر نام این چندرا بابو نائیڈو ، ٹی ہریش راؤ ، اکبر الدین اویسی ، وائی ایس وجیا اماں لکشمی ، جئے پرکاش نارائن ، جی کشن ریڈی اور کے ٹی راما راؤ ۔ ان تمام کے خلاف مجرمانہ کیس درج ہیں جب کہ اکبر الدین اویسی کے خلاف سب سے زیادہ 17 کیس درج ہیں ۔ ہریش راؤ کے خلاف 10 کیس ، ٹی ڈی پی کے چنتا مانینی پربھاکر کے خلاف 11 کیس درج ہیں ۔ موپی دیوی وینکٹا رامنا ، سی کے جے چندرا ریڈی اور دھرمانا پرساد راؤ کے خلاف مقدمات کو سی بی آئی کے سپرد کیا گیا ہے ۔ جب کہ ٹی ڈی پی کے ٹی وی راما راؤ کے خلاف مقدمہ کو سی آئی ڈی کو منتقل کیا گیا ہے ۔ عادل آباد کے ٹی ڈی پی رکن اسمبلی جوگورامنا کو جنوری 2003 میں قصور وار پایا گیا اور انہیں ایک ہزار ر وپئے جرمانہ عائد کیا گیا ۔ اسی طرح ایک دیگر ایم ایل اے وینو گوپال چاری ( مدھول ) کو قصور وار پائے جانے پر چھ ماہ قید کی سزا ہوئی ۔ یہ دونوں اب ٹی آر ایس کے ٹکٹ پر مقابلہ کررہے ہیں ۔ تلگو دیشم ارکان کے خلاف سب سے زائد کیس درج ہیں جب کہ 28 ارکان کے خلاف 68 کیس درج کئے گئے ۔ مجلس جس کے صرف 6 ارکان اسمبلی ہیں کے خلاف 35 کیس درج ہیں ۔ کانگریس کے 26 ارکان اسمبلی کے خلاف 39 کیس درج ہیں ۔ وائی ایس آر سی پی اور ٹی آر ایس دونوں جماعتوں کے 17 ارکان اسمبلی کے خلاف بالترتیب 19 اور 37 کیس درج ہیں ۔ بی جے پی اور سی پی آئی کے دو ارکان کے خلاف دو دو کیس درج ہیں ۔ لوک سبھا پارٹی کے خلاف ایک فوجداری مقدمہ درج ہے ۔ جن ارکان پارلیمنٹ کے خلاف مجرمانہ مقدمات درج ہیں ان میں وائی ایس جگن موہن ریڈی ، کے چندر شیکھر راؤ ، پونم پربھاکر ، کے چرنجیوی ، اسد الدین اویسی اور لگڑا پارٹی راج گوپال شامل ہیں ۔ جگن کے مختلف مقدمہ کو سی بی آئی کے تفویض کیا گیا ہے جب کہ عادل آباد کے رکن پارلیمنٹ رمیش راتھوڑ کو قصور وار پائے جانے پر تین سال قید اور آٹھ ہزار روپئے جرمانہ کی سزا ہوئی ۔ کے سی آر کے خلاف 14 مقدمات زیر دوراں ہیں ۔ جن 16 ارکان پارلیمنٹ کے خلاف مقدمات درج ہیں ان میں سب سے زیادہ کانگریس کے دس ارکان کے خلاف 16 مقدمات درج ہیں تلگو دیشم کے دو ارکان کے خلاف تین کیس ، وائی ایس آر سی پی ارکان کے خلاف بھی تین کیس جب کہ اسد الدین اویسی کے خلاف ایک دو کیس درج ہیں ۔۔