انفارمیشن کمشنر اے پی ڈاکٹر ایس امتیاز احمد کی برہمی ، خصوصی شعور بیداری پر زور
حیدرآباد ۔ 12 ۔ فروری : ( سیاست نیوز) : چیف منسٹر کا دفتر اس بات سے واقف نہیں ہے کہ قانون حق آگہی میں کیا طریقہ کار اختیار کیا جائے اور سکریٹری محکمہ اقلیتی بہبود دماغ کا استعمال کئے بغیر قانون حق آگہی کے تحت داخل کردہ درخواستوں سے نمٹنے کا طریقہ کار اختیار کئے ہوئے ہیں ۔ سپریم کورٹ کے احکامات کے مطابق متحدہ ریاست آندھرا پردیش میں موجود اوقافی جائیدادوں کی تحقیقات کے متعلق داخل کردہ قانون حق آگہی کے تحت درخواست کا جواب دینے کے سلسلہ میں اختیار کردہ وقف بورڈ ، سکریٹری اقلیتی بہبود اور چیف منسٹر کے دفتر کے طریقہ کار پر آندھرا پردیش انفارمیشن کمشنر ڈاکٹر یس امتیاز احمد نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے تحریری طور پر جاری کردہ احکامات میں کہا کہ اب اس بات کی شدید ضرورت ہے کہ حکومت قانون حق آگہی کو موثر اور اس پر بہتر عمل آوری کے لیے شعور بیداری مہم چلائے اور چیف منسٹر کے دفتر میں موجود عہدیداروں کے لیے یہ کام خصوصی طور پر کیا جانا چاہئے ۔ جناب خواجہ اعجاز الدین ایڈوکیٹ نے 7 اکٹوبر 2014 کو ایک درخواست وقف بورڈ میں قانون حق آگہی کے تحت داخل کرتے ہوئے اس بات کا استفسار کیا تھا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے 2008 میں محمدیہ کوآپریٹیو سوسائٹی کے مقدمہ کی سماعت کے دوران اس بات کی ہدایت دی گئی تھی کہ تمام اوقافی جائیدادوں کی تحقیقات کرتے ہوئے ان کی تفصیلات یکجا کی جائیں ۔ انہوں نے اس سلسلہ میں پیشرفت کے متعلق تفصیلات فراہم کرنے کی خواہش کی تھی ۔ ساتھ ہی انہوں نے گذشتہ 22 برسوں کے دوران لیز یا کرایہ پر دی گئی جائیدادوں کی تفصیلات بھی دریافت کی تھیں اور اس بات کی بھی خواہش کی تھی کہ سپریم کورٹ کے احکام کی نقل بھی حوالے کی جائے ۔ اکٹوبر 2014 میں داخل کردہ اس درخواست کا جواب دینے کے بجائے ٹال مٹول سے کام لیے جانے پر انفارمیشن نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت دی کہ درخواست میں طلب کردہ تمام تفصیلات بغیر کسی فیس کے اندرون 15 یوم درخواست گذار کو حوالے کرتے ہوئے 3 مارچ 2015 کو انفارمیشن کمیشن کو رپورٹ پیش کی جائے ۔ ڈاکٹر ایس امتیاز احمد نے اپنے احکام میں اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ وقف بورڈ کے پبلک انفارمیشن آفیسر طلب کردہ تفصیلات کی عدم فراہمی کے لیے عمداً کوشش کررہے تھے جو کہ قانون حق آگہی کی صریح خلاف ورزی ہے ۔ انہوں نے پبلک انفارمیشن آفیسر اور ایف اے اے کو سخت تنبیہہ کرتے ہوئے دوبارہ اس طرح کی شکایات کا اعادہ نہ کرنے کی ہدایت دی ۔ کمیشن نے سپریم کورٹ کی جانب سے دی گئی ہدایت کے مطابق کئے گئے اقدامات کی تفصیل فراہم کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ درخواست گذار کو تفصیلات کی فراہمی یقینی بنائی جائیں ۔ جناب عابد رسول خاں صدر نشین اقلیتی کمیشن ریاست آندھرا پردیش و تلنگانہ نے اوقافی جائیدادوں کی تحقیقات کے معاملہ کو سنجیدہ طور پر لیے جانے کی ضرورت کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ کمیشن نے متعدد شکایات موصول ہونے کے بعد ایک مفصل رپورٹ چیف منسٹر آندھرا پردیش و تلنگانہ کے حوالے کی جاچکی ہے ۔۔