آندھرا اسمبلی میں دو جماعتیں یا تین جماعتیں

جگن موہن ریڈی اور وائی رام کرشنوڈؤ کے درمیان لفظی تکرار

حیدرآباد۔/20جون، ( سیاست نیوز) آندھرا پردیش اسمبلی میں بلامقابلہ اسپیکر کے انتخاب کے بعد مبارکبادیوں کے سلسلہ کے دوران ایوان میں مسٹر جگن موہن ریڈی اور مسٹر وائی رام کرشنوڈو کے درمیان نوک جھونک دیکھی گئی۔ مسٹر جگن موہن ریڈی نے اپنے خطاب کے دوران کہا کہ آندھرا پردیش اسمبلی میں صرف دو سیاسی جماعتیں ہیں جس پر برسر اقتدار بنچوں کی جانب سے آواز دی گئی کہ بی جے پی بھی ایوان میں موجود ہے۔ جس پر ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے مسٹر جگن موہن ریڈی نے کہا کہ وہ جانتے ہیں لیکن بی جے پی فی الحال اقتدار کی حلیف ہے، اگر وہ اپوزیشن کی طرف آجاتی ہے تو تین جماعتیں کہی جاسکتی ہیں۔ جس پر مسٹر وائی رام کرشنوڈو نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ جگن موہن ریڈی اب بھی خوابوں کی دنیا میں جی رہے ہیں اور اقتدار کا خواب دیکھ رہے ہیں۔وزیر اُمور مقننہ نے دعویٰ کیا کہ تلگودیشم پارٹی آندھرا پردیش اسمبلی میں اب مستقل اقتدار میں رہے گی۔ مسٹر جگن موہن ریڈی نے ان کے اس طنز پر برجستہ جواب دیتے ہوئے کہا کہ 2004ء سے قبل بھی تلگودیشم قائدین اقتدار کے نشہ میں اسی طرح کی گفتگو کررہے تھے لیکن 2004ء میں ڈاکٹر وائی ایس راج شیکھر ریڈی نے حقیقت عوام کے سامنے پیش کردی۔ انہوں نے کہا کہ 2019ء کے بعد کون کہاں ہوگا؟ یہ فیصلہ صرف اوپر والے کے ہاتھ ہے اس کے علاوہ کوئی اور یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ اقتدار اور اپوزیشن کی نشستوں پر کون ہوں گے۔ مسٹر جگن موہن ریڈی اور وزیر اُمور مقننہ مسٹر وائی رام کرشنوڈو کے درمیان ہوئی اس نوک جھونک کے دوران دونوں پارٹیوں سے تعلق رکھنے والے ارکان اسمبلی بالکلیہ طور پر خاموش رہے۔ مسٹر جگن موہن ریڈی نے بتایا کہ اسپیکر کے بلامقابلہ انتخاب کیلئے ان سے خواہش کی گئی کہ وہ تعاون کریں اور ڈاکٹر کوڈیلا شیوا پرساد کا نام پیش کئے جانے پر انہوں نے فوری طور پر حامی بھرلی چونکہ کوڈیلا شیوا پرساد راؤ ایک سینئر ترین قائد ہیں۔