التواء کاشکار ڈی ایس سی کی فائل منظوری کیلئے چیف منسٹرکو روانہ
حیدرآباد ۔ 15جولائی ( سیاست نیوز) ریاست آندھراپردیش میں اساتذہ کے تقررات کا مسئلہ جہاں کچھ عرصہ سے لیت و لعل کا شکار بنا ہوا ہے وہیں اب اساتذہ کے تقررات عمل میں لانے ڈی ایس سی منعقد کرنے کیلئے قطعی منظوری کے حصول کیلئے متعلقہ فائل چیف منسٹر مسٹر این چندرا بابو نائیڈو کے ہاں پہنچا دی گئی ہے اور اب چیف منسٹر کی منظوری کا انتظار ہے ۔ توقع کی جارہی ہیکہ چندرا بابو نائیڈو کسی تاخیر کے بغیر منطوری دے دیں گے ۔ آندھراپردیش میں ڈی ایس سی کے اعلامیہ کی اجرائی کیلئے راہ ہموار ہوجائے گی ۔ سرکاری ذرائع نے یہ بات بتائی اور کہاکہ ریاست میں اساتذہ کے تقررات عمل میں لانے کے سلسلہ میں ریاستی محکمہ فینانس کی جانب سے متعدد مرتبہ مختلف اعتراضات کرتے ہوئے فائل واپس کی جاتی رہی اور ریاستی محکمہ تعلیم کی جانب سے اعتراضات کی وضاحت کرتے رہے جس کی روشنی میںریاستی محکمہ فینانس نے ان وضاحتوں کے بعد اپنے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے مکمل طور پر جائیدادوں کی زمرہ واری اساس پر نشاندہی کرتے ہوئے تفصیلات پر مبنی فائل کو منظوری کیلئے چیف منسٹر کے ہاں روانہ کردی ہے ۔ اس طرح اب ڈی ایس سی 2018 کے تعلق سے چیف منسٹر کا قطعی فیصلہ تصور کیا جائیگا اور بعد ازاں روایت کے مطابق ریاستی کابینہ کے اجلاس میں چیف منسٹر کے فیصلہ کی توثیق کرتے ہوئے منظوری دے دی جائے گی ۔ ذرائع نے مزید بتایا ہیکہ ڈی ایس سی میں ہونے والی تاخیر پر از خود چیف منسٹر نے ہی سخت نوٹ لیتے ہوئے وزیرفروغ انسانی وسائل سے تبادلہ خیال کیا تھا جس پر مسٹر جی سرینواس راؤ نے فوری اقدامات کرتے ہوئے متعلقہ عہدیداروں کو اس سلسلہ میں سخت ہدایات دیں جس کے بعد ریاستی محکمہ فینانس اور تعلیم نے اپنی فوری دلچسپی کا مظاہرہ کرکے فائل چیف منسٹر کو روانہ کی ۔اسی ذرائع نے مزید بتایا کہ سیکنڈری گریڈ ٹیچرس جائیدادوں کیلئے بی ایڈ امیدواروں کو بھی اہل قرار دیتے ہوئے این سی ٹی ای نے گذشتہ دنوں احکامات جاری کئے ۔ ان احکامات پر کس طرح عمل آوری کرنے کے سلسلہ میں ریاستی حکومت نے ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا ۔ تاہم اس سلسلہ میںمرتب کردہ فائل حکومت کے زیر غور رہنے کی اطلاعات پائی جاتی ہیں ۔