مرکز کی پرتیوش سنہا کمیٹی کا اہم فیصلہ ،کل تک الاٹمنٹ متوقع
حیدرآباد۔/16اگسٹ، ( سیاست نیوز) متحدہ آندھرا پردیش کی تقسیم اور تلنگانہ اور آندھرا پردیش ریاستوں کے قیام کے بعد آل انڈیا سرویسس کے عہدیداروں کی تقسیم کے سلسلہ میں مرکز کی پرتیوش سنہا کمیٹی نے آج اہم فیصلے کئے ہیں۔ کمیٹی نے نئی دہلی میں منعقدہ اپنے اجلاس میں آندھرا پردیش اور تلنگانہ کے درمیان آئی اے ایس، آئی پی ایس اور آئی ایف ایس عہدیداروں کی تقسیم کو منظوری دے دی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ کمیٹی نے لاٹری سسٹم کے ذریعہ عہدیداروں کی تقسیم کا عمل مکمل کیا ہے۔ پہلے تلنگانہ کا نام لاٹری میں نکلنے پر روسٹر سسٹم کے ذریعہ تلنگانہ کے عہدیداروں کا الاٹمنٹ کیا گیا آئی اے ایس، آئی پی ایس اور آئی ایف ایس عہدیداروں کا الاٹمنٹ دونوں ریاستوں کے درمیان بتایا جاتا ہے کہ لاٹری کے ذریعہ عمل میں لایا گیا۔ تلنگانہ ریاست کیلئے 163آئی اے ایس، 112 آئی پی ایس اور 65آئی ایف ایس عہدیداروں کو الاٹ کیا گیا جبکہ آندھرا پردیش کیلئے 2011آئی اے ایس، 144آئی پی ایس اور 85 آئی ایف ایس عہدیداروں کو الاٹ کیا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ پیر تک عہدیداروں کے الاٹمنٹ کا عمل مکمل ہوجائے گا۔ واضح رہے کہ ریاست آندھرا پردیش کی تقسیم کے بعد نئی ریاست تلنگانہ اور موجودہ آندھرا پردیش میں حکومتوں کی کارکردگی کو جاری رکھنے کیلئے مرکزی حکومت نے عبوری طور پر آئی اے ایس، آئی پی ایس اور آئی ایف ایس عہدیدار الاٹ کئے تھے۔ دونوں ریاستوں کیلئے آل انڈیا سرویسس کے عہدیداروں کی کمی کے باعث حکومت کی کارکردگی پر اثر پڑا ہے۔ دونوں حکومتیں مرکز سے مسلسل مانگ کررہی ہیں کہ عہدیداروں کے الاٹمنٹ کا عمل جلد مکمل کیا جائے۔ الاٹمنٹ کے سلسلہ میں آل انڈیا سرویسس کے عہدیداروں میں بھی اُلجھن پائی جاتی ہے۔عہدیداروں کا ماننا ہے کہ لاٹری کے ذریعہ الاٹمنٹ کی صورت میں تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے عہدیداروں کو مجبوراً آندھرا پردیش اور اسی طرح آندھرا پردیش سے تعلق رکھنے والے عہدیداروں کو تلنگانہ حکومت میں خدمات انجام دینا پڑے گا۔