حیدرآباد ۔ 26 ۔ اگست (پی ٹی آئی) تلگو دیشم پا رٹی کے زیر قیادت حکومت کے لئے مشکلات پیدا کرنے وائی ایس آر کانگریس پارٹی کے صدر جگن موہن ریڈی کی حکمت عملی کا آج آندھراپردیش اسمبلی الٹا اثر ہوا، جس کے نتیجہ میں خود انہیں (جگن) کو اسپیکر کی شدید برہمی کا سامنا کرنا پڑا اور ان کی پارٹی کے دو ارکان آج دن بھر کیلئے ایوان سے معطل کردئے گئے ۔ تلگو دیشم پارٹی نے وائی ایس آر کانگریس کے رکن چیوی ریڈی بھاسکر ریڈی کے خلاف تحریک مراعات شکنی پیش کی جنہوں نے مبینہ طور پر اسپیکر کی نافرمانی کی تھی۔ حکمراں تلگو دیشم پا رٹی نے قائد اپوزیشن جگن موہن ریڈی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہیں ’’معاشی دہشت گرد‘‘ اور دیگر کئی ناموں سے نوازا ۔ اس دوران ایوان میں زبردست ہنگامہ آرائی ہوئی جس کے نتیجہ میں وقفہ سوالات کے بعد کوئی کارروائی نہیں کی جاسکی۔ جگن نے جب شکایت کرنے کی کوشش کی کہ انہیں ایوان میں بات کرنے کے موقع سے محروم رکھا جارہا ہے، اسپیکر نے انتہائی برہمی کے ساتھ کہا کہ ’’آپ ایوان کو گمراہ کرنے کی کوشش نہ کریں‘‘۔ اسپیکر کوڈیلا شیوا پرساد راؤ نے برہمی کے ساتھ جگن سے سوال کیا کہ ’’خود آپ کی پارٹی کے ارکان آپ کو مخاطب کرنے کا موقع نہیں دے رہے ہیں۔ بحیثیت اپوزیشن لیڈر آپ کو ہم نے بات چیت کیلئے بہت موقع دیا۔ جب ایوان میں نظم و ضبط ہی نہیں ہے، آپ اپنا غصہ کا کس طرح اظہار کرسکتے ہیں؟ ‘‘ اسپیکر اور اپوزیشن ارکان کے درمیان سوال جواب کا سلسلہ جاری رہا اور کئی ارکان نے اسپیکر کے ساتھ بحث کا آغاز کردیا ۔ ایک مرحلہ پر وائی ایس آر کانگریس کے رکن اسمبلی منی گاندھی نے پوڈیم پر پہنچ کر اسپیکر کا مائیک توڑ دیا، جس کے نتیجہ میں ایوان کی کارروائی دوسری مرتبہ ملتوی کرنا پڑا۔ جیسے ہی کارروائی کا آغاز ہوا ، وزیر فینانس وائی رام کرشنوڈو نے جن کے پاس امور مقننہ کا قلمدان بھی ہے، منی گاندھی اور اے آر سیوا پرساد ریڈی کے خلاف تحریک پیش کرتے ہوئے ایوان سے معطلی کی درخواست کی ۔ ان دونوں پر اسپیکر پر حملہ اور مائیک توڑنے کے الزامات عائد کئے گئے ۔ ایوان نے قرارداد کو منظور کرلیا ۔ تاہم دونوں ارکان نے معطلی قبول کرنے اور ایوان سے باہر جانے سے انکار کردیا ۔ اس دوران وائی ایس آر کانگریس کے دیگر ارکان بھی ایوان کے وسط میں جمع ہوگئے اور اسپیکر نے تیسری مرتبہ 10 منٹ کیلئے ایوان کی کارروائی ملتوی کرنے کا اعلان کیا۔ جیسے ہی چوتھی مرتبہ کارروائی کا آغاز ہوا، ہنگامہ آرائی جاری رہی جس کے نتیجہ میں ایوان کی کارروائی دن بھر کیلئے ملتوی کردی گئی۔