آلیر انکاؤنٹر کی سی بی آئی یا برسرخدمت جج کے ذریعہ تحقیقات کروانے کا مطالبہ

شب معراج کے جلسوں سے جناب محمد مشتاق ملک کا مختلف مساجد میں خطاب
حیدرآباد۔17 مئی (پریس نوٹ) سارے عالم میں مسلمان اضطراب کا شکار ہیں۔ اس کے ساتھ ہندوستان میں بھی نت نئے فتنوں کے ذریعہ مسلمانوں کو کمزور اور پست ہمت کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ نئی ریاست تلنگانہ بھی انصاف کا قتل کرنے والوں کو آزاد چھوڑی ہوئی ہے۔ آلیر انکاؤنٹر میں قانون سے بالاتر ہوکر قتل کرنے والے پولیس اہلکار پر انصاف کی حکمرانی کا دعویٰ کرنے والے بازپرس کرنے تیار نہیں۔ مکہ مسجد سے متعلق کمیشن کی رپورٹ کو برف دان کی نذر کردیا گیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار جناب محمد مشتاق ملک صدر تحریک مسلم شبان نے شب معراج کے جلسوں کو مخاطب کرتے ہوئے کیا۔ آصف نگر وجئے نگر کالونی اور جامع مسجد احسن اللہ خاں میں بڑے جلسوں کو خطاب کرتے ہوئے صدر تحریک نے کہا کہ ظالم کے ظلم کے خلاف اُٹھ کھڑے ہونا رسول مقدسؐ کی تعلیمات ہیں۔ معراج النبیؐ جہاں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام انبیاء میں ممتاز فرمایا، اسی طرح تمام اقوام میں مسلمانوں کو بھی اللہ نے ممتاز قرار دیا۔ وہ بدی، برائی کے خلاف نیکی اور بھلائی کی تعلیم دینے والے ہیں۔ سماج کے شر و فساد کو ختم کرنا مسلمانوں کی ذمہ داری ہے۔ معراج کے معنی ایسی بلندی کے ہیں جس کے بعد کوئی اور بلندی نہیں، مگر امت آج پستی کی طرف مائل ہے۔ جناب مشتاق ملک نے نوجوانوں پر زور دے کر کہا کہ اپنی بگڑی خود سنوارنے کیلئے اٹھ کھڑے ہوں۔ دوسروں پر تکیہ کرنا چھوڑ دیں۔ سخت محنت اور جدوجہد سے ملت سربلند ہوگی۔ ملت کی سربلندی ہماری شخصی سربلندی ہے۔ اصلاح معاشرہ کی مہم ’’ایک کھانا ، ایک میٹھا‘‘ کی حمایت اور اس کام کو آگے بڑھانے پر صدر تحریک نے زور دیا۔ ملت کا تحفظ، مساجد میں حاضری کے بعد ہی ہوگا۔ مساجد سے غائب رہ کر ملت کے گیسوؤں کو سنوارا نہیں جاسکتا۔ حکومت سے مسلمانان تلنگانہ کا مطالبہ ہے کہ وہ آلیر انکاؤنٹر کی سی بی آئی یا برسرخدمت جج کے ذریعہ تحقیقات کروائیں اور ریاست کے 4 کروڑ عوام کو حقائق بتلائیں۔