آسیان اکنامک کمیونٹی کے قیام کا منصوبہ

نائی پائی تا۔ 12 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) آسیان چوٹی اجلاس کا آج آغاز ہوا جس میں 2015ء تک معاشی کمیونٹی کے قیام کے ساتھ ساتھ مستقبل کے ترقیاتی منصوبوں پر غوروخوض ہوگا۔ اسوسی ایشن آف ساوتھ ایسٹ ایشین ممالک (آسیان) قائدین کے علاوہ دیگر عالمی قائدین بشمول صدر امریکہ بارک اوباما اور وزیراعظم نریندر مودی میانمار کے دارالحکومت نائی پائی تا میں موجود ہیں جہاں علاقائی بلاک میں معاشی کمیونٹی کے قیام پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ صدر میانمار یو تھین سین نے افتتاحی خطاب میں کہا کہ آسیان اکنامک کمیونٹی ہماری ترقی کی سمت منزل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کمیونٹی کے قیام میں جن نشانوں کو مقرر کیا گیا ہے انہیں پورا کرنا اہمیت کا حامل ہے جس کے ذریعہ ہمارے عوام کو بہتر مواقع فراہم ہوں گے اور آسیان کمیونٹی کو اس کا فائدہ ہوگا۔ آسیان سکریٹریٹ کے مطابق کمیونٹی کے قیام کیلئے 80 فیصد مطلوبہ اقدامات کئے جاچکے ہیں۔ 10 ممالک نے واحد آسیان مارکٹ کے قیام کی بھرپور تائید کی ہے۔ اس سے یہ علاقہ معاشی طور پر مسابقتی مقام حاصل کرے گا

اور آئندہ سال عالمی معیشت میں اس خطہ کا اہم رول ہوگا۔ آسیان کمیونٹی تقریباً 600 ملین عوام کا احاطہ کرے گی اور اس کا مجموعی جی ڈی پی 2 ٹریلین ڈالر ہوگا۔ اس چوٹی اجلاس میں توقع ہیکہ آسیان کمیونٹی کے مستقبل کے ویژن کے بارے میں اعلامیہ منظور کیا جائے گا اور یہ 2015ء کے بعد علاقائی بلاک کیلئے جامع روڈ میاپ ثابت ہوگا۔ صدر تھین سین نے 5 نشانوں کی نشاندہی کی اور کہا کہ آسیان ممالک کو 2015ء کے بعد ایک نئی بلندی پر پہنچنے کیلئے ان پر توجہ مرکوز کرنی چاہئے۔ پہلی مرتبہ آسیان کی صدارت میانمار کے حصہ میں آئی۔ وہ 1997ء میں اس بلاک سے وابستہ ہوا اور متواتر تبدیلی کے تسلسل میں میانمار کی باری آئی۔ آسیان سکریٹری جنرل لی لونج منہہ نے کہا کہ میانمارکی صدارت میں آسیان کمیونٹی کے مابعد 2015ء ویژن کیلئے حالات تیار ہوگئے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ بلاک آسیان اداروں کو مستحکم بنانے میں بھی معاون ہوگا۔ اس دو روزہ چوٹی اجلاس میں چین، جنوبی کوریا، جاپان، ہندوستان، نیوزی لینڈ، آسٹریلیا، امریکہ اور روس کے قائدین کی بھی باہمی ملاقاتیں ہوں گی۔

مودی کی آن سان سوچی سے ملاقات
٭٭ وزیراعظم نریندر مودی نے آج نوبل انعام یافتہ اور میانمار کی اپوزیشن لیڈر آن سان سوچی سے ملاقات کی۔ پارک رائل ہوٹل کے صدارتی کمرہ میں پہلی مرتبہ موافق جمہوریت قائد سے یہ ملاقات ہوئی۔ میانمار میں اس وقت یہ بحث جاری ہے کہ آن سان سوچی کو 2015ء پارلیمانی انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دی جائے یا نہیں۔ سوچی نے نومبر 2012ء میں ہندوستان کا دورہ کیا تھا۔