احمدآباد ۔ 10 جون (سیاست ڈاٹ کام) جیل کی سزاء کاٹنے والے خودساختہ بھگوان آسارام باپو کے سابق قریبی ساتھی جو آیوروید ڈاکٹر بھی ہیں جن کا نام امرت پرجاپتی ہے، پر دو ہفتہ قبل حملہ آوروں نے انتہائی قریب سے گولی چلائی تھی، وہ آج اپنی رہائش گاہ پر انتقال کر گئے۔ 23 مئی کو راجکوٹ میں دو نامعلوم حملہ آوروں نے ان پر گولی چلائی تھی جس کے بعد سے وہ اب تک زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلاء تھے لیکن آج وہ زخموں سے جانبر نہ ہوسکے۔ آج صبح 7 بجے وہ اپنے مکان میں بیہوش ہوکر گر پڑے۔ پرجاپتی کے ماما موتی پرجاپتی نے بتایا کہ پرجاپتی کی اہلیہ نے فون کرکے تمام حالات بتائے۔ وہ فوراً ان کے گھر پہنچے اور سیول ہاسپٹل منتقل کیا
جہاں ڈاکٹروں نے پرجاپتی کو مردہ قرار دیا۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہیکہ پرجاپتی آسارام باپو اور انکے بیٹے نارائن سائی کے مخالف تھے اور خصوصی طور پر سورت کی دو بہنوں نے جب باپ بیٹے پر عصمت ریزی کا الزام عائد کیا اسکے بعد پرجاپتی آسارام کے شدید مخالف بن گئے تھے۔ پرجاپتی کے ارکان خاندان کا کہنا ہیکہ آسارام اور نارائن سائی کی ایما پر مبینہ طور پر پرجاپتی پر فائرنگ کی گئی۔ موتی پرجاپتی نے بتایا کہ فائرنگ کے بعد پرجاپتی نے ان پر حملہ کرنے والے پانچ مشتبہ افراد کے نام بھی بتائے تھے۔