آر ایس ایس عظیم تنظیم،ہندوتوا اور بھارتیتہ ہم معنی الفاظ

نئی دہلی۔11 ڈسمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) آگرہ میں تبدیلی مذہب کے پس منظر میں فرقہ پرست ایجنڈہ پر عمل کرنے کے الزامات کا سامنا کرنے والی حکومت نے آج لوک سبھا میں کہا کہ وہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی برقرار رکھنے کی پابند ہے اور تجویز پیش کی کہ تمام ریاستیں بشمول مرکز میں انسداد تبدیلی مذہب قوانین ہونے چاہئیں۔ تبدیلی مذہب پر مباحث کا جواب دیتے ہوئے جبکہ کئی اپوزیشن پارٹیوں نے واک آؤٹ کیا، مرکزی وزیر برائے پارلیمانی اُمور ایم وینکیا نائیڈو نے ’’مادر‘‘ تنظیم آر ایس ایس کے خلاف الزامات کو مسترد کردیااور اپوزیشن پارٹیوں پر الزام عائد کیا کہ وہ سنگھ پریوار کے علاوہ مودی حکومت کی شبیہ ’’سیاہ‘‘ کردینے ’’غلط اطلاعات‘‘ پھیلا رہی ہیں۔ مباحث کے دوران جو مسلسل دوسرے دن ایوان پارلیمنٹ میں شوروغل کے بعد منعقد کیا گیا تھا، اپوزیشن پارٹیوں نے حکومت، آر ایس ایس اور اس کی ملحقہ تنظیموں پر تنقید کی اور الزام عائد کیا کہ وہ فرقہ وارانہ صف بندی اور کشیدگی پیدا کررہی ہیں۔ اس سلسلے میں آگرہ میں بعض مسلمانوں کی تبدیلی مذہب کا حوالہ دیا گیا۔ مباحث کے دوران اپوزیشن پر جوابی وار کرتے ہوئے اور کانگریس پر تنقید کرتے ہوئے جسے مبینہ طور پر لوک سبھا انتخابات میں مسترد کردیا گیا ہے، انہوں نے کہا کہ بعض لوگ لفظ ’’ہندو‘‘ سے الرجی رکھتے ہیں اور وہ آر ایس ایس اور حکومت کو کسی نہ کسی تبدیلی کے بہانے تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔ چاہے یہ تبدیلی کسی ایسی ریاست میں کیوں نہ آئے جہاں دیگر کسی پارٹی کا اقتدار ہو۔

آگرہ میں تبدیلی مذہب کے خاص واقعہ کے بارے میں مرکز نے آج واضح کردیا کہ اس واقعہ کے سلسلے میں مرکزی حکومت کا کوئی کردار نہیں ہے اور کارروائی کرنا اترپردیش حکومت اور مقامی انتظامیہ کی ذمہ داری ہے۔ مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کے غیاب میں جو جھارکھنڈ میں انتخابی مہم میں مصروف ہیں، مرکزی وزیر برائے پارلیمانی اُمور ایم وینکیا نائیڈو نے جبری تبدیلی مذہب پر لوک سبھا میں مباحث کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ تبدیلی مذہب اور دوبارہ تبدیلی ’’ایک قومی چیلنج‘‘ ہیں، کیونکہ اس سے کشیدگی پیدا ہوتی ہے۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ مرکزی حکومت اور تمام ریاستوں میں انسداد تبدیلی مذہب قوانین منظور کئے جانے چاہئیں تاکہ تمام مذہب اور عقائد پر عمل کا تحفظ ہوسکے۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں سنجیدگی سے پیشرفت ضروری ہے۔ ساتھ ہی ساتھ انہوں نے کہا کہ آزادی مذہب غیرملکی فنڈس کی مدد سے قبائیلیوں اور غرباء کو نشانہ بنانے استعمال نہیں کیا جانا چاہئے۔ مرکز فرقہ وارانہ ہم آہنگی برقرار رکھنے کا پابند ہے اور ریاستوں کو ہر ممکن مدد دینے کیلئے تیار ہے۔ انہوں نے اپوزیشن کے اس ادعا کو مسترد کردیا کہ مودی حکومت کے برسراقتدار آنے کے بعد فرقہ وارانہ کشیدگی میں اضافہ ہوگیا ہے۔ کانگریس پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے مہاتما گاندھی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بابائے قوم نے تبدیلی مذہب کے خلاف قوانین کی تجویز پیش کی تھی، لیکن اس پر عمل نہیں کیا گیا۔ انہوں نے ادعا کیا کہ ہندوتوا اور بھارتیتہ ہم معنی الفاظ ہیں۔ وزیراعظم نریندر مودی، سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی، ایل کے اڈوانی یا بی جے پی نے لفظ ’’ہندو‘‘ وضع نہیں کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن نے آر ایس ایس کے بارے میں بہت سے باتیں کہی ہیں، جو موجودہ واقعہ سے کوئی تعلق نہیں رکھتیں۔

انہوں نے آر ایس ایس کو ایک عظیم تنظیم قرار دیا۔ اس تبصرہ پر ایوان میں دوبارہ شوروغل شروع ہوگیا۔ اپوزیشن پارٹیوں بشمول کانگریس، بایاں بازو، ترنمول کانگریس، سماج وادی پارٹی نے احتجاجاً واک آؤٹ کیا۔ اپوزیشن پارٹیاں قبل ازیں مباحث کے دوران اجلاس کئی بار ملتوی کرواچکی تھیں۔ انہوں نے اس مسئلہ پر مباحث کا مطالبہ کیا تھا جس کی وجہ سے فرقہ وارانہ فسادات کا اندیشہ تھا۔ ملکارجن کھرگے نے اس مسئلہ کو خصوصی موضوع قرار دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک انتہائی سنگین معاملہ ہے جو ملک کے اتحاد کیلئے خطرہ ہے۔ مباحث کا آغاز کرتے ہوئے کانگریس کے جیوتر آدتیہ سندھیا نے الزام عائد کیا کہ ہندو دھرم اختیار کرنے پر مسلمانوں کو راشن کارڈس فراہم کرنے کا لالچ دیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ کیا یہی اچھے دن ہیں جن کا وعدہ کیا گیا تھا۔ ترنمول کانگریس کے سوگٹ رائے نے بی جے پی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ فرقہ وارانہ خطوط پر عوام کی صف بندی کررہی ہے۔ انہوں نے پارٹی کے رکن پارلیمنٹ کے تبصرہ کا حوالہ دیا جنہوں نے گاندھی جی کے قاتل ناتھو رام گوڈسے کو مہاتما گاندھی کے مساوی محب وطن قرار دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ وہ سمجھتے تھے کہ بی جے پی رام کی پرستار ہے لیکن وہ ناتھو رام کی پرستار نکلی۔ سماج وادی پارٹی قائد ملائم سنگھ یادو نے جن کی پارٹی یوپی میں برسراقتدار ہے، بی جے پی پر اپنے موقف میں نرمی پیدا کرتے ہوئے کہا کہ کیا ارکان اخبارات پڑھ کر مشتعل ہوگئے ہیں اور آگرہ کے واقعہ پر مباحث کا مطالبہ کررہے ہیں؟ وینکیا نائیڈو نے کہا کہ وہ وزارت داخلہ کے عہدیداروں اور ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ آگرہ سے بات کرچکے ہیں اور کارروائی جاری ہے۔

اپوزیشن کے اس الزام کا جواب دیتے ہوئے کہ بی جے پی اقتدار پر آنے کے بعد عوام کی فرقہ وارانہ صف بندی کررہی ہے، انہوں نے کہا کہ ہمارا موقف بالکل واضح ہے۔ ہم نے عوام سے ترقی کا وعدہ کیا ہے اور اسے پورا کریں گے۔ مودی حکومت آزادی تقریر کا احترام کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود اپنے آبائی مقام نیلور کی ایک درگاہ پر مسلسل حاضری دیتے ہیں لیکن یہ حاضری ووٹوں کی خاطر نہیں ہے۔ ان کے دادا کا نام ایک مسلم ولی ’’مستان‘‘ کے نام پر رکھا گیا تھا۔ کانگریس کے واک آؤٹ پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ پارٹی پہلے تو مباحث کا مطالبہ کرتی ہے لیکن اس میں تنقید برداشت کرنے کا حوصلہ نہیں ہے۔ دریں اثناء آگرہ سے موصولہ اطلاع کے بموجب کلیدی ملزم نندکشور بالمیکی کی گرفتاری کیلئے پولیس نے کئی دھاوے کئے ہیں۔ بالمیکی جبری تبدیلی مذہب کی درج کردہ ایف آئی آر میں کلیدی ملزم ہے۔ اناؤ سے موصولہ اطلاع کے بموجب چیف منسٹر یوپی اکھیلیش یادو نے الزام عائد کیا کہ ان کی حکومت کے خلاف اپوزیشن کی جانب سے جھوٹا پروپگنڈہ کیا جارہا ہے۔ انہوں نے دوبارہ تبدیلی مذہب کے واقعہ میں خاطیوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے اور خاطی افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت جاری کی۔ دریں اثناء نئی دہلی سے موصولہ اطلاع کے بموجب مرکزی وزارت داخلہ نے آگرہ کے مبینہ تبدیلی مذہب کے بارے میں رپورٹ طلب کرلی ہے۔