آبرسانی بلوں میں 10 روپئے تا 150 روپئے اضافہ کا امکان

سربراہی آب کو باقاعدہ بنانے کے بجائے صارفین پر زائد بوجھ ڈالنے کا منصوبہ
حیدرآباد /6 مارچ ( سیاست نیوز ) شہر حیدرآباد کئی علاقوں میں پانی کی عدم سربراہی اور آلودہ پانی کی شکایتیں روزآنہ کی عام بات ہے تاہم ان مسائل پر توجہ دینے کے بجائے محکمہ آبرسانی نے پانی کے بلز میں اضافہ کردیا ہے ۔ امکان ہے کہ اضافہ قیمتوں کو جاریہ ماہ کے بلز میں شامل کردیا جائے گا اور اضافہ قیمتیں سرویس چارجس کے نام پر وصول کی جارہی ہیں ۔ واٹر بورڈ کے ریونیو شعبہ کی جانب سے تیار کردہ سفارش پر بورڈ کے ایم ڈی نے منظوری کی مہر لگادی ہے ۔ امکان ہے کہ زمرہ واری سطح پر 10 روپئے سے لیکر 150 روپئے تک بلز میں اضافہ ہوسکتا ہے ۔ واٹر بورڈ کے اس فیصلہ سے شہر کے عام آدمی پر اضافی بوجھ عائد ہوگیا ہے ۔ جبکہ اکثر شہری واٹر بورڈ کی جانب سے سربراہ کئے جارہے پانی کو پینے کیلئے استعمال کرنے سے خوف زدہ ہیں اور اپنی صحت بالخصوص بچوں کی صحت کے پیش نظر فلٹر پانی کو خرید کر پینے کیلئے مجبور ہیں ۔ وبائی امراض اور شہر میں عدم صفائی کے نظام سے خوف کا شکار شہر میں واٹر بورڈ کی جانب سے سربراہ کئے جارہے ہے پانی کو پینے کے بجائے صرف ضروریات کے تحت استعمال کر رہے ہیں ۔ ایک ایسے وقت جبکہ موسم گرما کا آغاز ہوچکا ہے ۔ واٹر بورڈ کا فیصلہ شہریوں کیلئے پریشان کا باعث بن گیا ہے ۔ شہر کے بیشتر علاقوں میں پانی کی سربراہی میں یا پھر آلودہ پانی کی شکایت عام بات ہے ۔ واٹر بورڈ کے اس فیصلہ پر شہریوں کی اکثریت نے ناراضگی کا اظہار کیا ہے ۔تاہم اضافہ کے ساتھ ساتھ اگر معیاری سہولیات کو یقینی بنایا جاتا بلکہ پہلے سہولیات کو یقینی بنایا جاتا پھر اضافہ کیا جاتا تو شہر اس فیصلہ کو خوشی سے قبول کرلیتے ۔ واٹر بورڈ کے اس فیصلہ سے شہر کے 8 لاکھ 50 ہزار نل کے کنکشن کے حامل صارفین پر اضافہ بوجھ عائد ہوگا ۔ واٹر بورڈ کے ریونیو شعبہ نے جو یہ سفارش تیار کی ہے ۔ اس فیصلہ کو بورڈ کے حق میں صحیح قرار دیا ہے ۔ سفارش تیار کرنے والے شعبہ کا کہنا ہے کہ واٹر بورڈ کیلئے درکار اخراجات کی پابجائی یہ فیصلہ سرویس چارجس کی شکل میں ضروری تھا ۔ چونکہ 8 لاکھ 50 ہزار نل کے کنکشن اور عوام تک پہونچنے کیلئے 200 میٹر ریڈرس کی خدمات حاصل کی جارہی ہیں جو عوام کے گھروں تک پہونچکر بلز کو پہونچاتے ہیں اور بلز وصول بھی کرتے ہیں اور یہ تمام خدمات آوٹ سورسنگ کے ذریعہ تکمیل کی جارہی ہیں ۔ واٹر بورڈ کے ذرائع کے مطابق 8 لاکھ 50 ہزار کنکشن سے واٹر بورڈ کو ماہانہ 82 کروڑ کی آمدنی ہوتی ہے ۔ جن میں اخراجات برقی بلز اور آوٹ سورسنگ ، تنخواہوں اور دیگر اخراجات کے بعد ماہانہ 2 کروڑ کا خسارہ ہوتا ہے ۔ جبکہ سال 2010 میں آخری مرتبہ سرویس چارجس میں اضافہ کیا گیا تھا اور تاحال اس میں کسی قسم کا کوئی اضافہ نہیں کیا گیا ۔ اخراجات کی پابجائی اور بورڈ کو نقصان سے بچانے کیلئے واٹر بورڈ کے عہدیداروں نے اضافی قیمتوں کا بوجھ عوام پر ڈال دیا ہے ۔ واٹر بورڈ کی جانب سے موجودہ نظام کے مطابق 50 روپئے 151 روپئے سے لیکر 300 روپئے بل پر 10 روپئے سرویس چارج حاصل کیا جاتا تھا اور 301 روپئے سے 600 روپئے تک بل پر 15 روپئے اور 600 روپئے زائد بل پر 20 روپئے لیکن اب زمرہ بندی اور اضافہ سرویس چارجس کے بعد 200 روپئے سے زائد بل پر 20 روپئے 201 روپئے تا 500 روپئے بل پر 40 روپئے 501 تا 800 روپئے بل پر 60 روپئے 801 تا 1500 روپئے بل پر 80 روپئے 1501 روپئے تا 2500 روپئے بل پر 100 روپئے اور 2500 سے زائد پانی کی بل پر 150 روپئے سرویس چارجس وصول کئے جائیں گے ۔