آئی سی سی اجلاس میں فلسطینیوں کی بحیثیت مبصرین شرکت

اقوام متحدہ ۔ 9 ڈسمبر۔( سیاست ڈاٹ کام ) بین الاقوامی کریمنل کورٹ کے 122 رکن ممالک کی کانفرنس میں فلسطینیوں کو باقاعدہ طورپر مبصرین بنایا گیا ہے جس کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ یہ ایک ایسا اقدام ہے جس نے انھیں عالمی سطح پر کئے جانے والے جنگی جرائم کے ٹریبونل کا مستقل رکن بنادیا ہے ۔ صدر فلسطین محمود عباس نے انتباہ دیا تھا کہ وہ آئی سی سی کی رکنیت اختیار کریں گے تاکہ اسرائیل پر مبنی جنگی جرائم کے الزامات عائد کرنے دباؤ ڈالا جاسکے ۔ اقوام متحدہ کے فلسطینی سفیر ریاض منصور نے کہاکہ اُن کی حکومت اُسی جانب پیشرفت کررہی ہے لیکن اس معاملہ میں پیشرفت ایک دیگر معاملہ ہے جس کیلئے مناسب وقت کا فیصلہ مسٹر عباس کریں گے ۔ دریں اثناء ہیومن رائٹس واچ کی بین الاقوامی جسٹس کونسل بلقیس جراح نے بتایا کہ فلسطینی ٹریبونل میں شمولیت کے بارے میں کئی بار وعدے کرچکے ہیں تاہم عملی طورپر کچھ کرنے کی ہنوز نوبت نہیں آئی ہے کیونکہ عملی طورپر یہ معاملہ تاخیر کا شکار ہورہا ہے ۔ ہم نے کئی بار کہا ہے کہ اگر ٹریبونل میں وہ لوگ بھی شامل ہوجائیں تاکہ جنگی جرائم کے معاملات میں انصاف کے تقاضہ کو مکمل کیا جاسکے ۔ آئی سی سی کی اسمبلی کے آئندہ دنوں سبکدوش ہونے والی صدر ٹینا نے ایسے ملکوں کے ناموں پر مبنی فہرست جاری کی ہے جنہیں اس کانفرنس میں دعوت دی جانے کے باوجود ان کی طرف سے ابھی تک اپنے شریک ہونے کی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔اس فہرست میں روس، چین ، ہندوستان اور فلسطینی ریاست شامل ہے۔ ان تمام ملکوں کو اتفاق رائے سے دعوت دی گئی تھی۔ فلسطینیوں کو مبصر کے طور پر دعوت دینے پر بھی کسی نے اعتراض نہیں کیا ہے۔