آئندہ ماہ جی ایچ ایم سی کے منتخب نمائندوں کی میعاد ختم

کئی اعلانات ، عمل آوری باقی ، کونسلرس کے عہدیداروں پر الزامات
حیدرآباد ۔ 20 نومبر ۔ ( سیاست نیوز) مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے منتخبہ عوامی نمائندوں کی میعاد3 ڈسمبر کو ختم ہونے والی ہے لیکن گزشتہ پانچ برسوں کے دوران مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے کئے گئے کئی اعلانات پر عمل آوری باقی ہے جس کے لئے منتخبہ عوامی نمائندے عہدیداروں کو ذمہ دار قرار دے رہے ہیں ۔ جی ایچ ایم سی انتخابات کے بعد سے دو برس تک میئر مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے عہدہ پر کانگریس کے ٹکٹ پر منتخب ہونے والی کارپوریٹر مسز بی کارتیکا ریڈی فائز تھیں اور اُن کے دور میں 14 مائیکرو ن پالی تھین بیاگ کے استعمال کو لازمی بنانے کے علاوہ کوئی اہم فیصلہ نہیں کیا گیا لیکن دو برس کے بعد مجلسی کارپوریٹر مسٹر ماجد حسین کو مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کا میئر منتخب کیا گیا ۔ محمد ماجد حسین نے میئر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد شہر میں کئی ترقیاتی کاموں کے اعلانات کئے اور اسٹانڈنگ کمیٹی کی جانب سے کئی ترقیاتی کاموں کو منظوری دی گئی جن میں اسٹیڈیمس کی تعمیر ، سوئمنگ پولس کی تعمیر ، چادرگھاٹ برج سے متصل نئے برج کی تعمیر ، 30 فٹ اوور برج کی تعمیر ، سڑکوں کی توسیع ، نئے ہاوز نمبرس ، چارمینار پیدل راہرو پراجکٹ،ملٹی لیول پارکنگ کامپلکس ، غیرمجاز ہورڈنگس کی برخواستگی ، شہر کو کلین اینڈ گرین بنانے کی کوششیں اور دیگر کئی اعلانات شامل ہیں۔ لیکن مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے عہدیداروں اور منتخبہ عوامی نمائندوں کے درمیان تال میل کے فقدان کے باعث معلنہ کاموں میں نصف ترقیاتی کاموں کی بھی تکمیل یقینی نہیں بنائی جاسکی ہے ۔ 3 ڈسمبر کو موجودہ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے منتخبہ عوامی نمائندوں کی میعاد مکمل ہوجائے گی اور پھر ایک مرتبہ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد پر عہدیداروں کا راج چلے گا ۔ جب کہ بعض منتخبہ نمائندوں کا کہنا ہے کہ اب بھی منتخبہ عوامی نمائندوں کی موجودگی میں عہدیدار بھی بلدیہ پر راج کررہے ہیں اور اسٹانڈنگ کمیٹی کی جانب سے منظورہ کاموں کی تکمیل پر توجہ دینے کے بجائے اپنے منصوبوں کو قابل عمل بنانے پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہیں۔میئر مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد اور کمشنر جی ایچ ایم سی کے درمیان جاری بالواسطہ سرد جنگ کے سبب شہر کے کئی ترقیاتی کاموں میں رکاوٹ پیدا ہوئی ہے اور مسائل کے حل کے سلسلے میں منتخبہ عوامی نمائندوں کے اقدامات پر عہدیدار خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیںجبکہ عہدیداروں کی جانب سے کئے جانے والی من مانی پر منتخبہ عوامی نمائندوں میں شدید برہمی پائی جاتی ہے لیکن اس برہمی کے باوجود منتخبہ عوامی نمائندے کوئی بھی اقدام کرنے سے قاصر ہیں۔ جی ایچ ایم سی کی جانب سے کھیل کود کے فروغ کیلئے اقدامات کا وعدہ کیا گیا تھا اور میئر مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد نے اعلان کیا تھا کہ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے حدود میں موجود ہر اسمبلی حلقہ میں ایک سوئمنگ پول تعمیر کیا جائے گا اور اسی طرح جی ایچ ایم سی حدود میں میعاد کی تکمیل سے قبل 54 کھیلوں کے لئے اسٹیڈیمس کی تعمیر یقینی بنائی جائے گی لیکن یہ وعدہ بھی وفا نہ ہوسکا ۔ شہر میں کچرے کی نکاسی کو یقینی بنانے اور شہر میں صاف صفائی کے اقدامات کو بہتر بنانے کے متعدد اعلانات کئے گئے لیکن اُن اعلانات پر موثر عمل آوری یقینی نہیں بنائی جاسکی ۔ اسی طرح شہر کی سڑکوں کو عالمی معیار کی بنانے کے وعدے کئے گئے تھے لیکن یہ وعدے بھی پورے نہیں ہوپائے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ 3 ڈسمبر کو منتخبہ عوامی نمائندوں کی میعاد کی تکمیل سے قبل اسٹانڈنگ کمیٹی کی جانب سے کئے گئے فیصلوں پر کس حد تک عمل آوری ہوتی ہے اور کتنے اعلانات پر عمل آوری کا آغاز باقی رہ جاتاہے ۔