7 جانور کے نام پر انسانوں کا قتل … روانڈا کو گائے کا تحفہ
7 پارلیمنٹ سیشن … مودی کا ورلڈ ٹور جاری
رشیدالدین
ملک میں ہجومی تشدد کے واقعات محض اتفاقی نہیں بلکہ منصوبہ بند دکھائی دے رہے ہیں۔ سپریم کورٹ کی سخت ہدایات، مرکز اور ریاستوں کو پابند کرنے کے باوجود واقعات کا سلسلہ جاری ہے۔ یہ بھی محض اتفاق نہیں ہوسکتا کہ تمام واقعات کی نوعیت یکساں ہے اور نشانہ پر مسلمان ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ ملک میں جانوروں کے تاجر صرف مسلمان ہوں۔ بڑے جانوروں کو فروخت کرنے والے کسان اور تجارت کرنے والے تاجرین کی اکثریت دیگر مذاہب سے تعلق رکھتی ہے لیکن ہجوم کو صرف مسلمان تاجر ہی دکھائی دے رہے ہیں۔ ہجوم کوئی غیر منظم گروہ نہیں پہلے سے جمع کردہ افراد دکھائی دے رہے ہیں ورنہ ہتھیاروں کا ساتھ ہونا کس طرح ممکن ہے۔ حکومت اور برسر اقتدار پارٹی سرپرستی میں ہجومی تشدد کا مقصد دراصل انتخابی ماحول کو فرقہ وارانہ رنگ میں ڈھالنا ہے۔ سپریم کورٹ نے مرکز اور ریاستوں کو دستوری ذمہ داری یاد دلائی اور قانون سازی کا مشورہ دیا۔ سپریم کورٹ کے سخت موقف کے بعد توقع کی جارہی تھی کہ مرکزی حکومت خواب غفلت سے جاگے گی لیکن گاؤ دہشت گردوں نے راجستھان کے الور میں اکبر خاں کو ہلاک کرتے ہوئے یہ پیام دیا کہ ان پر عدالتی احکامات کا کوئی اثر نہیں ہوگا۔ راجستھان اور جموں میں گاؤ رکھشک بے قابو ہوگئے۔
بیدر میں حیدرآبادی نوجوان کو ہلاک کیا گیا تو اترپردیش کے غازی آباد میں مسلم نوجوان کو شادی کے مسئلہ پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا ۔ اگر یوں کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ ملک میں اور خاص طور پر بی جے پی زیر اقتدار ریاستوں میں گاؤ دہشت گردوں کو تشدد کا لائسنس مل چکا ہے۔ مرکز میں نریندر مودی برسر اقتدار آنے کے بعد سے ہجومی تشدد میں تقریباً 90 افراد کی ہلاکت واقع ہوئی اور یہ واقعات زیادہ تر بی جے پی زیر اقتدار ریاستوں میں پیش آئے جبکہ مرنے والوں کی اکثریت کا تعلق مسلم اقلیت سے ہے۔ قانون میں ہجوم کو سزا کے امکانات کم ہوتے ہیں ، لہذا اسی طریقہ کار کو اختیار کرتے ہوئے مسلمانوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ سپریم کورٹ کی برہمی کے بعد مرکز نے ریاستوں کو اڈوائزری جاری کی جو محض ضابطہ کی تکمیل کے سواء کچھ نہیں۔ ریاستوں میں نوڈل آفیسر کا تقرر اور قومی سطح پر دو اعلیٰ سطحی کمیٹیوں سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ بی جے پی زیر اقتدار ریاستوں میں ہلاکتوں کے باوجود وزیراعظم نے ایک بھی چیف منسٹر کی سرزنش نہیں کی۔ موجودہ قوانین کے تحت عدالت نے جھارکھنڈ کے خاطیوں کو سزا سنائی اور وہ ہائی کورٹ سے ضمانت پر رہا ہوکر باہر آئے تو مرکزی وزیر جیئنت سنہا نے ان کی گلپوشی کی اور مٹھائی پیش کی۔ مرکزی وزیر کا اقدام ایسا تھا جیسے وہ مجرم نہیں بلکہ مجاہدین آزادی ہوں۔ مرکزی وزیر کے اس اقدام پر بی جے پی کی خاموشی دراصل تائید کا اشارہ ہے، اس سے جارحانہ فرقہ پرست عناصر کے حوصلے یقینی طور پر بلند ہوں گے ۔ اسی دوران آر ایس ایس قائد اندریش کمار نے جلتے پر تیل چھڑکنے کا کام کیا۔ انہوں نے اعتراف کرلیا کہ واقعات کے پس پردہ سنگھ پریوار ہے۔ ’’بیف کھانا بند کرو ، ہم مارنا بند کردیں گے ‘‘ یہ کہتے ہوئے اندریش کمار نے اپنے عزائم کو ظاہر کیا ہے۔
جارحانہ فرقہ پرست طاقتوں کے اقبالی بیان کے باوجود کارروائی کا کوئی امکان نہیں۔ دراصل یہی موقف بی جے پی اور مرکزی حکومت کا بھی دکھائی دے رہا ہے۔ یہاں تو وکیل بھی آپ اور منصف بھی آپ ہی ہیں۔ فریادی اپنا مقدمہ آخر کس کی عدالت میں پیش کرے۔ اگر کسی اور معاملہ میں کوئی مسلم تنظیم اس طرح کا بیان دے تو اس کا کیا حشر ہوگا ، کہنے کی ضرورت نہیں۔ بنگلہ دیش میں کسی نے ذاکر نائک کی تقاریر سے متاثر ہونے کی بات کہی تو حکومت نے ذاکر نائک کو دہشت گرد کی طرح پیش کردیا۔ سپریم کورٹ میں بابری مسجد مقدمہ کی سماعت کے دوران سینئر قانون داں راجیو دھون نے افغانستان کے بامیان میں بدھا کے مجسموں کو طالبان کی جانب سے منہدم کرنے کا حوالہ دیا اور بابری مسجد کے شہید کرنے والوں کو ہندو طالبان کا نام دیا تو بی جے پی اور سنگھ پریوار کو ناگوار گزرا۔ حالانکہ راجیو دھون نے شدت پسندی کی مثال کے طور پر بطور تشبیہہ یہ جملہ ادا کیا ۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہجومی تشدد کے واقعات رکنے والے نہیں ہے۔ عیدالاضحیٰ سے عین قبل اشرار کو اور بھی کھلی چھوٹ دیدی جائے گی تاکہ فرقہ وارانہ منافرت کو ہوا ملے اور یہ فضاء انتخابات تک برقرار ہے۔ بی جے پی کے پاس گزشتہ چار برسوں کے دوران کوئی کارنامہ نہیں جس کی بنیاد پر عوامی تائید کی توقع کی جاسکے۔ جس طرح 2014 ء میں فرقہ وارانہ ایجنڈہ پر بی جے پی نے کامیابی حاصل کی تھی، 2019 ء میں اسی کو دہرانا چاہتی ہے۔ رام مندر ، یکساں سیول کوڈ ، تین طلاق اور حلالہ جیسے مسائل آئندہ انتخابات میں موضوع بنائے جاسکتے ہیں۔ ملک میں ہجومی تشدد میں ہلاکتوں کا سلسلہ جاری ہے لیکن نریندر مودی نے اپنی تفریح کو ترک نہیں کیا۔ انہیں ہلاکتوں کی مذمت کرتے ہوئے ٹوئیٹ کرنے کی بھی فرصت نہیں۔ مودی نے افریقی ملک روانڈا کو 200 گائے کا تحفہ پیش کیا اور گائے کو چارہ کھلاتے ہوئے مودی کی تصویر کی خوب تشہیر کی گئی ۔ کہیں یہ گاؤ رکھشکوں کی بالواسطہ حوصلہ افزائی تو نہیں ؟ ہندوستان میں انسانی جانوں کی ہلاکتوں پر خاموشی لیکن ملک کے باہر جانوروں کا تحفہ۔ جنوبی افریقہ میں بریکس سمٹ میں نریندر مودی نے دہشت گردی کے سدباب کیلئے جامع طریقہ کار اختیار کرنے پر زور دیا۔ بریکس رکن ممالک میں دہشت گردی کے سدباب سے پہلے نریندر مودی کو اندرون ملک گاؤ رکھشا کے نام پر دہشت گردی اور انتہا پسندی سے نمٹنے کی فکر کرنی چاہئے۔
پارلیمنٹ کا سیشن جاری ہے لیکن وزیراعظم نریندر مودی نے اپنے ورلڈ ٹور کو جاری رکھا ہے۔ عام طور پر پارلیمنٹ کے اجلاس کے دوران وزیراعظم اور اہم وزراء بیرونی دوروں سے گریز کرتے ہیں کیونکہ پارلیمنٹ میں مباحث کے موقع پر کسی بھی وقت ضرورت پڑسکتی ہے۔ جمہوریت میں پارلیمنٹ اہم ترین ادارہ ہے اور وزیراعظم نے اس ادارہ کے وقار کو مجروح کردیا ۔ سیشن کے دوران بیرونی دوروں سے پارلیمنٹ کو بے وقعت کرنے کی کوشش کی گئی ۔ حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد کو شکست کے بعد مودی نے جیسے گنگا نہالیا ہو۔ وہ حکومت کی کامیابی سے مطمئن ہوکر افریقی ممالک کے دورہ پر روانہ ہوگئے ۔ وزیراعظم کو اب پارلیمنٹ کی شائد ضرورت بھی نہیں کیونکہ وہ الیکشن کی تیاریوں میں مصروف ہوچکے ہیں۔ وزیر فینانس ارون جیٹلی علیل ہیں جبکہ سشما سوراج سے سنگھ پریوار ناراض ہے۔ راجناتھ سنگھ امن و ضبط کے مسائل میں الجھے ہوئے ہیں اور حکومت پیوش گوئل کو مستقل وزیر فینانس کے طور پر پیش کر رہی ہے۔ ابتداء میں انہیں کارگزار وزیر فینانس کہا گیا لیکن اب ان کے نام کے ساتھ لفظ کارگزار ہٹا دیا گیا ۔ وزیراعظم نے پارلیمنٹ کو چھوڑ کر تین افریقی ممالک کا دورہ کیا ۔ حالانکہ ان ممالک سے ہندوستان کو کوئی فائدہ نہیں ہے۔ وزیراعظم پہلے ہی 55 سے زائد ممالک کا دورہ کرچکے ہیں اور ہوسکتا ہے کہ وہ اپنی پانچ سالہ میعاد کی تکمیل تک ورلڈ ٹور کا ریکارڈ قائم کرنا چاہتے ہیں۔ کسی نے تبصرہ کیا کہ شائد وزیراعظم کو سیاست سے ریٹائرمنٹ کے بعد آرام گاہ کی تلاش ہے۔ وزیراعظم نے چار برسوں میں ملک کی تمام ریاستوں کا دورہ نہیں کیا۔ کئی ریاستیں ایسی ہیں جہاں ابھی تک وزیراعظم کے قدم نہیں پڑے۔ صرف ان ریاستوں میں نریندر مودی کا دورہ ہوا جہاں انتخابات تھے یا پھر جہاں سیاسی فائدہ حاصل کرنا ضروری ہے۔ وزیراعظم کو بیرون ملک سے زیادہ اندرون ملک ریاستوں میں عوام کا حال چال معلوم کرنا چاہئے ۔ اچھے دن اور سب کا وکاس کا نعرہ ریاستوں کے دورہ کے بعد ہی مکمل ہوپائے گا۔ اگر بیرون ممالک دوروں کا سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو وزیراعظم واسکوڈی گاما کی طرح نئے ممالک کی کھوج کرلیں گے ۔ کئی نئے ممالک نریندر مودی کی کھوج سے منظر عام پر آسکتے ہیں۔ آنجہانی چندر شیکھر جس وقت چھ ماہ تک وزیراعظم رہے انہوں نے بھی دنیا کے چھوٹے ممالک کے دوروں کو ترجیح دی تھی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ نریندر مودی ورلڈ ٹور پر ہیں لیکن پڑوسیوں سے ان کے روابط ٹھیک نہیں۔ ملک کی خارجہ پالیسی کی ناکامی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ سری لنکا ، مالدیپ ، نیپال اور بنگلہ دیش جیسے پڑوسی بھی ہندوستان سے خوش نہیں۔ دوسری طرف کانگریس ورکنگ کمیٹی نے وزیراعظم کے عہدہ کیلئے ابھی سے راہول گاندھی کے نام کو آگے کردیا ہے۔ صرف دو ریاستوں میں اقتدار کے ساتھ وزیراعظم کے عہدہ کا خواب دیکھنا کانگریس جیسی قدیم قومی جماعت کے لئے مناسب نہیں۔ یہ وہ پارٹی ہے جس نے نہ صرف جدوجہد آزادی میں اہم رول ادا کیا بلکہ ملک کو کئی نامور قومی قائدین کی قیادت سے نوازا، آج اسی پارٹی میں قیادت کا بحران اور فقدان دیکھا جارہا ہے۔ سینئر و تجربہ کار قائدین کو نظر انداز کرتے ہوئے راہول گاندھی کی ہاں میں ہاں ملانے والے گروپ کو اہمیت دینے کی شکایات ہیں۔ کانگریس ورکنگ کمیٹی کے فیصلہ پر یو پی اے کی حلیف جماعتیں خاموش ہیں اور صرف دیوے گوڑا نے تائید کی جو کہ ان کی مجبوری کے سوا کچھ نہیں ہے۔ وزیراعظم کے عہدہ کا خواب دیکھنے سے پہلے ملک کی تمام ریاستوں میں پارٹی کا موقف مستحکم کرنا ہوگا۔ محض دو ریاستوں سے کوئی بھی وزیراعظم نہیں بن سکتا ۔ کانگریس کے سینئر قائدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ نوجوان قیادت کو صحیح مشوروں سے نوازیں۔ نہیں تو نریندر مودی کا سامنا کرنا مشکل ہوجائے گا۔ ملک کے موجودہ حالات پر شہود آفاقی کا یہ شعر صادق آتا ہے ؎
جن لوگوں نے کاٹے ہیں گلے لوٹے ہیں گھر بار
انصاف بھی کرنے کو وہی لوگ کھڑے ہیں