10 ٹیم کا ورلڈ کپ قدم پیچھے ہٹانے کے مترادف

سڈنی ، 4 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) ورلڈ کپ 2019ء میں شرکاء ٹیموں کی تعداد کو گھٹانے سے متعلق آئی سی سی کے فیصلے کو ’’قدم پیچھے ہٹانا‘‘ قرار دیتے ہوئے کرکٹ لجنڈ سچن تنڈولکر نے کہا کہ اس طرح کا اقدام اسوسی ایٹ اقوام کیلئے غیرمنصفانہ ہے۔ جہاں آئی سی سی شرکاء ٹیموں کی تعداد کو 14 سے 10 تک گھٹا دینا چاہتی ہے، وہیں تنڈولکر نے جو اس ورلڈ کپ کے ایمبیسڈر ہیں، یہاں خصوصی ڈنر کے موقع پر حاضرین کو بتایا کہ گورننگ باڈی کو اس کی بجائے ایسے امکانات تلاش کرنے چاہئیں کہ اگلے ٹورنمنٹ کو 25 ٹیموں تک وسعت دی جاسکے۔ تنڈولکر کے حوالے سے ’ای ایس پی این کرک انفو‘ نے کہا، ’’مجھے معلوم ہوا ہے کہ اگلا ورلڈ کپ صرف دس ٹیموں والا رہے گا۔ یہ قدرے مایوس کن ہے کیونکہ کرکٹر کے طور پر میں چاہتا ہوں کہ اس کھیل کو عالمی سطح پر زیادہ سے زیادہ پھیلایا جائے اور میری رائے میں یہ (10 ٹیم والا اقدام) قدم پیچھے ہٹانے کے مترادف ہے‘‘۔ بیٹنگ ماسٹر نے کہا کہ ٹسٹ کھیلنے والی اقوام کو اپنی A ٹیموں کو باقاعدگی سے اسوسی ایٹس کے خلاف کھلانا چاہئے تاکہ نسبتاً چھوٹے کرکٹ ممالک کیلئے ’’معقول پلیٹ فارم‘‘ فراہم ہوسکے۔ دوسری طرف آئی سی سی چیف ایگزیکٹیو ڈیوڈ رچرڈسن نے طئے شدہ کٹوتی کا دفاع کیا ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ ورلڈ کپ ایک ممتاز ایونٹ ہونے کے ناطے ہم پلہ اور مسابقتی ٹیموں کے درمیان کھیلا جانا چاہئے۔