’ لَو جہاد ‘ کے خلاف نوجوان چوکس رہیں

حیدرآباد ۔ 23 ۔ اگست : ( سیاست ڈاٹ کام ) : اترپردیش میں انتخابی امکانات کو پیش نظر رکھتے ہوئے بی جے پی نے آج نوجوانوں پر ’ لَو جہاد ‘ کے خلاف چوکس رہنے پر زور دیا ۔ ساتھ ہی ریاستی حکومت پر اقلیتی فرقہ کے نوجوانوں کے بارے میں نرم رویہ اختیار کرنے کا الزام عائد کیا ۔ اترپردیش بی جے پی صدر لکشمی کانت باجپائی نے ریاستی عاملہ کمیٹی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کو ’ لَو جہاد ‘ کے بارے میں چوکس رہنا ہوگا ۔ جو اس میں ملوث ہیں حکومت ان کے بارے میں نرم رویہ کیوں اختیار کررہی ہے ؟ انہوں نے استفسار کیا کہ اقلیتی فرقہ کے نوجوانوں کو کیا یہ لائسنس مل گیا ہے کہ وہ اکثریتی فرقہ کی لڑکیوں کا مذہب تبدیل کریں ۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ فرقہ وارانہ فسادات سماج وادی پارٹی حکومت کی پالیسیوں کا نتیجہ ہے کیوں کہ وہ مذہب کی بنیاد پر فسادات کرنے والوں کا تحفظ کررہی ہے اور بی جے پی کو فسادات میں گھسیٹنے کی ممکنہ کوششیں کی جارہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت عملاً فرقہ پرست بن گئی ہے اور تشدد کرنے والوں کو راحت فراہم کررہی ہے ۔ باجپائی نے ایس پی حکومت پر حالیہ لوک سبھا انتخابات میں شکست کا عوام سے انتقام لینے کا الزام عائد کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ انتخابی نتائج کا صحیح تناظر میں جائزہ نہیں لے رہی ہے ۔ بلکہ اس نے عوام سے انتقام لینا شروع کردیا ہے ۔ برقی بحران بھی اس کی ایک مثال ہے ۔اس ریاستی عاملہ اجلاس کا افتتاح صدر بی جے پی امیت شاہ کرنے والے تھے، لیکن وہ نہیں آئے۔ اس اجلاس میں پارٹی کے دیگر کئی سینئر لیڈرس نے شرکت کی اور اسمبلی انتخابات کے سلسلہ میں پارٹی کے لائحہ عمل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔