’یروشلم کی جنگ‘ جیتنے اسرائیل کا عزم، فلسطینی کا گھر مسمار

یروشلم۔ 19 نومبر۔ ( سیاست ڈاٹ کام) اسرائیل کے وزیراعظم بنیامن نتن یاہو نے یروشلم میں یہودیوں کی ایک عبادت گاہ پر حملے کے بعد ’یروشلم کی جنگ‘ جیتنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ ادھر اسرائیلی فوجیوں نے آج مشرقی یروشلم میں اس فلسطینی کا گھر مسمار کر دیا ہے جس نے ٹرام اسٹاپ پر گاڑی چڑھا کر دو اسرائیلیوں کو ہلاک کر دیا تھا۔ نتن یاہو نے ’ہر دہشت گرد سے بدلہ‘ لینے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا: ’’جو لوگ ہمیں ہماری مملکت سے اکھاڑنا چاہتے ہیں کامیاب نہیں ہوں گے‘‘۔ اسرائیلی وزیراعظم نے قبل ازیں یہودیوں کی عبادت گاہ پر حملے کرنے والوں کے گھروں کو مسمار کرنے کا حکم بھی دیا۔ نتن یاہو نے کہا، ’’عبادت کے دوران کیا جانے والا حملہ وحشت ناک ہے اور ہم اپنے ابدی دارالحکومت یروشلم کے حوالے سے جنگ میں ہیں‘‘۔ نتن یاہو نے کہا کہ وہ یروشلم کی گلیوں کی سکیورٹی بڑھا رہے ہیں تاہم انھوں نے اس بارے میں مزید تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔اسرائیل کے وزیرِاعظم نے شہریوں سے کہا کہ وہ ’یکجا‘ہو جائیں تاہم

’کوئی بھی شخص قانون کو اپنے ہاتھ میں نہ لے۔‘نتن یاہو نے کہا: ’میں مغرب کے تمام رہنماؤں سے اس قتلِ عام پر زیادہ غم و غصہ دیکھنا چاہتا ہوں۔دوسری جانب امریکی صدر براک اوباما نے یروشلم میں یہودیوں کی عبادت گاہ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا: ’ بے قصور شہریوں پر ایسے حملوں کا کوئی جواز نہیں دیا جا سکتا۔‘فلسطین کے صدر محمود عباس نے بھی یروشلم میں یہودیوں کی ایک عبادت گاہ پر حملے کی مذمت کی ہے۔خیال رہے کہ منگل کو یروشلم میں یہودیوں کی ایک عبادت گاہ پر حملے کے نتیجے میں دو حملہ آوروں سمیت چھ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔پولیس کے مطابق پستول، چھریوں اور چاقوؤں سے لیس دو افراد نے یہودیوں کی عبادت گاہ کے اندر لوگوں پر حملہ کیا۔پولیس کے بقول دونوں حملہ آور مشرقی یروشلم کے رہائشی فلسطینی تھے۔اس حملے کے بعد فائرنگ کے نتیجے میں دونوں حملہ آوروں کو بھی ہلاک کر دیا گیا تھا۔