’منموہن سنگھ بہت کچھ کرنا چاہتے تھے‘

’’سوپر وزرائے اعظم ‘‘ نے انہیں روک دیا ۔ مختار نقوی کا طنز
نئی دہلی 7 جولائی ( سیاست ڈاٹ کام ) ایک طنزیہ ریمارک میں بی جے پی نے آج کہا کہ سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ اپنے دور حکومت میں بہت کچھ کرنا چاہتے تھے لیکن کئی سوپر وزرائے اعظم نے انہیں ایسا کرنے سے باز رکھا ۔ راجیہ سبھا میں مہنگائی پر مباحث میں حصہ لیتے ہوئے بی جے پی لیڈر مختار عباس نقوی نے کہا کہ این ڈی اے حکومت کو افراط زر ورثہ میں ملا ہے اور قوم پر قرض کا اس قدر بوجھ عائد کردیا گیا ہے کہ ہر نو زائدہ بچہ 25,000 روپئے قرض کے ساتھ پیدا ہوتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سابقہ یو پی اے حکومت نے کرپشن ‘ اسکامس اور بلا روک ٹوک افراط زر کو فروغ دیا ہے ۔ سابق حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے نقوی نے منموہن سنگھ کا حوالہ دیا ‘ اس وقت منموہن سنگھ بھی ایوان میں موجود تھے ‘ نقوی نے کہا کہ منموہن سنگھ بہت کچھ کرنا چاہتے تھے لیکن کئی سوپر وزرائے اعظم تھے اس کی وجہ سے وہ کچھ نہیں کرسکے ۔ ان کے ریمارکس پر کچھ ارکان بشمول سابقو زیر صنعت و تجارت آنند شرما نے برہم احتجاج کیا ۔ مسٹر نقوی نے کہا کہ حکومت ماضی کے برعکس قیمتوں پر کنٹرول کرنے کے عہد کی پابند ہے اور اس نے فوری طور پر اس مسئلہ پر مباحث کا مطالبہ قبول کرلیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ نئی حکومت کے شروع کردہ کئی اقدامات کی بدولت اچھے دن آنے ہی والے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اقتدار کے دلالوں ‘ کالا بازاریوں اور ذخیرہ اندوزوں کیلئے برے دن بھی آنے والے ہیں۔