’بہار میں سیاسی بحران کیلئے بی جے پی ذمہ دار‘

پٹنہ۔15فبروری( سیاست ڈاٹ کام ) بہار کے متحارب چیف منسٹر جتن رام مانجھی کو اسمبلی میں خط اعتماد حاصل کرنے کیلئے مقررہ تاریخ 20 فبروری سے قبل جنتادل(یو) اور اس کی حلیف جماعتوں نے باہمی اتحاد و یگانگت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس ریاست میں موجود سیاسی عدم استحکام و بحران کیلئے بی جے پی اور ریاستی گورنر کو مورد الزام ٹہرایا۔ جے ڈی ( یو) بہار یونٹ کے صدر بششتھا نارائن سنگھ نے آج یہاں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ’’ بی جے پی کی ایما پر گورنر نے چیف منسٹر مانجھی کو خط اعتماد حاصل کرنے کیلئے طویل وقت دیتے ہوئے بہار کو سیاسی بھونچال اور عدم استحکام میں جھونک دیا ہے ‘‘ ۔ ریاست میں بدترین سیاسی بحران کیلئے گورنر کو مورد الزام ٹہراتے ہوئے کہا کہ ’’ ریاست میں بدترین معاشی افراتفری پھیل گئی ہے کیونکہ چیف منسٹر ایک کے بعد دیگرے سستی شہرت پر مبنی اسکیموں کے اعلانات کررہے ہیں جن کے سرکاری خزانے پر سنگین اقتصادی اثرات مرتب ہوں گے ‘‘ ۔ نارائن سنگھ نے گورنر سے مطالبہ کیا کہ وہ چیف منسٹر کو اس قسم کے اعلانات کرنے سے باز رہنے کی ہدایت کریں ۔

گورنر کیسری ناتھ ترپاٹھی کی جانب سے مانجھی کو خط اعتماد حاصل کرنے کیلئے 20فبروری تک مہلت دینے کی مدافعت اور نتیش کمار پر ’’ ہوس اقتدار‘‘ کا الزام عائد کئے جانے پر نارائن سنگھ نے کہا کہ گورنر ترپاٹھی ایک دستوری عہدہ پر فائز رہتے ہوئے سیاسی بیانات دے رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ’’ ترپاٹھی بھی ریاستی بی جے پی لیڈر سشیل کمار مودی کی زبان میں بات کررہے ہیں ۔ آر جے ڈی کی ریاستی یونٹ کے صدر رامچندرا پوروے نے عہدہ سے استعفیٰ سے مانجھی کے انکار کی مذمت کی اور الزام عائد کیا کہ گورنر اس حقیقت کو جانتے ہوئے بھی کہ مانجھی کو اکثریت حاصل نہیں ہے ان کی حکومت کو بچانے کی کوششیں کررہے ہیں ۔ پوروے نے مانجھی کی طرف سے سستی شہرت کیلئے عوامی اسکیمات کے اعلانات کی مذمت کی اور کہا کہ ان اسکیمات پر عمل آوری کیلئے 50,000کروڑ روپئے درکار ہوں گے لیکن مانجھی غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے بہار کو اقتصادی نیراج و افراتفری میںجھونک رہے ہیں ۔

بہار پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر اشوک کمار چودھری نے جو خود بھی دلت طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں مانجھی کے ان دعوؤں کا مذاق اڑایا کہ جنتادل (یو) اور اس کی حلیف جماعتوں نے ان سے استعفیٰ طلب کرتے ہوئے مہادلت طبقہ کی توہین کی ہے اور کہا کہ کسی دستوری عہدہ پر فائز شخص اپنے سماجی پس منظر سے نہیں بلکہ اپنے کام ‘ کردار اور رویہ سے پہچانا جاتا ہے ۔
چودھری نے گورنر کی سخت مذمت کرتے ہوئے ان پر دستور اور جمہوریت کا بے رحمانہ مذاق اڑانے کا الزام عائد کیا ۔ بی پی آئی لیڈر جتیندرا ناتھ نے بھی گورنر اور بی جے پی کو مذمت کرتے ہوئے ان پر آر ایس ایس کا ایجنڈہ روبہ عمل لانے کا الزام عائد کیا ۔ جیتیندرا ناتھ سنگھ نے جو راجیہ سبھا کے رکن بھی ہیں گورنر کی جانب سے مانجھی کو خط اعتماد حاصل کرنے کا موقع دیئے جانے پر بھی سخت اعتراض کیا اور کہا کہ یہ جان بوجھ کر ہی ایسا کیا گیا حالانکہ متحارب چیف منسٹر کو صرف درجن بھر ارکان اسمبلی کے سوائے کسی بھی سیاسی جماعت کی تائید حاصل نہیں ہے ۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ راج بھون بھی اس حقیقت سے باخبر ہے اور اس بات سے بھی متفق ہے کہ نتیش کمار کو اکثریت حاصل ہے ۔