یہ چمن ہے ہمارا، تمہارا نہیں

آسام … شہریت کے نام پر مسلمان نشانہ
ممتا بنرجی میدان میں … مسلم قیادت محوِ خواب

رشیدالدین
ملک کے مسلمانوں کو کیا اپنی شہریت کا ثبوت دینا ہوگا ؟ آسام میں جس طرح 40 لاکھ نام ایک جنبش قلم سے نیشنل رجسٹر آف سٹیزنس (NRC) سے خارج کردیئے گئے۔ ہوسکتا ہے یہ محض ایک تجربہ ہو تاکہ ملک میں عوامی رد عمل کا جائزہ لیا جاسکے۔ آسام کو تجربہ گاہ کے طور پر استعمال کیا گیا جہاں گزشتہ ایک دہے سے غیر ملکی شہریوں کے نام پر مسلمانوں کو ہراساں کرتے ہوئے بلیک لسٹ کیا گیا ہے۔ آسام ہی کیا سارے ملک میں مسلمانوں کی آبادی جارحانہ فرقہ پرست طاقتوں کو کھٹک رہی ہے۔ کل تک 2 بچوں کو کافی قرار دینے والے سنگھ قائدین اب ہندوؤں کو 6 تا 10 بچوں کا مشورہ دے رہے ہیں۔ ہنسی تو ان سنگھی قائدین پر آتی ہے جو یوگی اور مہنت یعنی خود تو شادی نہیں لیکن دوسروں کو زائد بچوں کی صلاح دے رہے ہیں۔ تاریخ شاہد ہے کہ مسلمانوں کی آبادی کم کرنے کیلئے ہندوستان میں جبری نسبندی کی گئی اور ہزاروں فسادات کرائے گئے ۔ آزادی کے بعد سے خونریز فسادات کا لامتناہی سلسلہ جاری ہے جس کی تازہ یادگار گجرات ہے، جہاں حکومت کی نگرانی میں نسل کشی کی گئی ۔ فسادات کے وقت گجرات کے جو حکمراں تھے، وہ آج مرکز کے اقتدار پر فائز ہیں۔ مسلمانوں کی آبادی کو نشانہ بنانے کا سلسلہ یوں ختم نہیں ہوا۔ فہرست رائے دہندگان سے ناموں کا اخراج ہر الیکشن سے قبل معمول بن چکا ہے۔ مسلمانوں کو پاکستان جانے کا مشورہ یا انہیں جبراً بھیج دینے کی باتیں سماعتوں کیلئے نئی نہیں ہے۔ آخر ملک کو مسلمانوں کی آبادی سے خطرہ کیونکر ہوسکتا ہے۔ 125 کروڑ کے ملک میں 20 تا 25 کروڑ مسلمان بھی فرقہ پرست طاقتوں کو کھٹک رہے ہیں۔ جہاں تک آسام میں 40 لاکھ ناموں کو شہریوں کی فہرست سے خارج کرنے کا معاملہ ہے، یہ تو بی جے پی اور سنگھ پریوار کے ایجنڈہ کا حصہ ہے اور آج نہیں تو کل یہ کام ہونا ہی تھا۔ آسام میں بی جے پی کو اقتدار ملتے ہی یہ کام آسان ہوگیا ۔ یہ بھی محض ایک انتخابی فائدہ کی چال ہے تاکہ ملک بھر کے ہندوؤں میں مسلمانوں سے نفرت کا جذبہ پیدا کیا جائے۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ سابق صدر جمہوریہ فخر الدین علی احمد کے افراد خاندان کے نام بھی فہرست میں شامل نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ایک غیر ہندوستانی خاندان کا فرد ملک کے اعلیٰ ترین دستوری عہدہ پر فائز رہا۔ اسی طرح آسام کی علاقائی سیاسی جماعت کے سربراہ بدرالدین اجمل کے ارکان خاندان کے نام بھی خارج کردیئے گئے ۔ کل تک جس آدھار کارڈ کو سب کچھ کہا جارہا تھا ، رجسٹرار جنرل نے کہہ دیا کہ آدھار کارڈ شہریت کا نہیں صرف رہائش کا ثبوت ہے۔ ہوسکتا ہے کہ آدھار کارڈ کے بجائے آر ایس ایس اور بی جے پی ہندوستانی شہریت کا سرٹیفکٹ جاری کرے گی جو رجسٹرار جنرل کے لئے بھی قابل قبول ہوگا۔ آسام میں جس کام کی شروعات ہوئی ، ہوسکتا ہے دوسری ریاستوں میں بھی اسے توسیع دی جائے۔ بی جے پی کے اقتدار اور نریندر مودی کے وزیراعظم بننے کے بعد مختلف عنوانات کے تحت ہراسانی کا سلسلہ جاری ہے۔ گاؤ رکھشکوں کی دہشت گردی ابھی تھمی نہیں کہ مسلمان کی داڑھی بھی فرقہ پرستوں کو کھٹکنے لگی ہے۔ ہریانہ کے گرگاؤں میں مسلم نوجوان کی داڑھی کو مونڈھ دیا گیا ۔ ان شرپسندوں سے کوئی سوال کرے کہ نریندر مودی ، امیت شاہ اور بی جے پی رکن پارلیمنٹ ساکشی مہاراج کی داڑھیوں کا کیا کریں گے جو انہوں نے اپنے چہروں پر سجا رکھی ہیں۔

گاؤ دہشت گردی پر سپریم کورٹ کی برہمی کا حکومت پر کوئی اثر نہیں ہوا ۔ سماجی جہد کاروں کے قتل کے واقعات کی سماعت کرنے والی ممبئی ہائیکورٹ کا یہ ریمارک بھی واقعات پر برہمی کا اظہار ہے، ’’ملک میں عوام خوفزدہ اور عہدیدار لاپرواہ ہیں‘‘ ۔ عدالت نے یہ کہتے ہوئے صورتحال کی سنگینی کا اشارہ دیا کہ ملک ایسے دور سے گزر رہا ہے جہاں کوئی آزادی سے بولنے اور گھومنے سے قاصر ہے۔ گزشتہ چار برسوں سے سنگھ پریوار لسانی اور مذہبی اقلیتوں کو نشانہ بنانے کے ایجنڈہ پر کارفرما ہے۔ نظم و نسق پر سنگھ پریوار کا اسی طرح کنٹرول رہا تو شہریت کے سرٹیفکٹ آر ایس ایس کے دفاتر سے جاری ہوں گے اور سرکاری محکمہ جات اسے قبول کرنے پر مجبور ہوں گے ۔ دنیا میں کئی ممالک ایسے ہیں جہاں سرزمین پر قدم رکھتے ہی شہریت دی جاتی ہے لیکن آسام میں تین نسلوں سے قیام پذیر خاندان ابھی تک غیر ملکی کے زمرہ میں ہیں، ان سے دستاویزی ثبوت مانگا جارہا ہے۔ اگر شہریت کے سلسلہ میں یہی پیمانہ ہے کہ دوسرے ملک سے آنے والوں کو قبول نہ کیا جائے ، بھلے ہی وہ نسل در نسل کیوں نہ ہوں ۔ اگر ایسا ہی ہے تو پہلے ایل کے اڈوانی کی شہریت منسوخ کریں جو تقسیم ہند کے وقت پاکستان سے ہندوستان آئے تھے ۔ انہیں تو ملک کے نائب وزیراعظم کے عہدہ پر فائز کیا گیا ۔ بی جے پی اور سنگھ پریوار میں ایسے کئی قائدین مل جائیں گے جن کے آبا و اجداد کا تعلق پاکستان سے ہے۔ پاکستان سے آکر بھی وہ دیش بھکت لیکن جس کی نسلیں ہندوستان میں قیام پذیر ہوں ، وہ دیش دروہی اور غیر ملکی۔ آسام میں 40 لاکھ ناموں کا اخراج کوئی معمولی بات نہیں۔ یہ تعداد تو دنیا کے بعض ممالک کی مجموعی آبادی سے زیادہ ہے۔ یہ معاملہ اس قدر سنگین ہے کہ اسے اقوام متحدہ سے رجوع کیا جانا چاہئے ۔ نریندر مودی کے وزیراعظم بننے کے بعد سے دنیا بھر کے ہندوؤں کیلئے ملک کے دروازے کھول دیئے گئے ۔ پاکستان ، افغانستان ، بنگلہ دیش اور سری لنکا سے آنے والے ہندو خاندانوں کو ملک نے قبول کرلیا اور یہ سلسلہ ابھی جاری ہے لیکن مسلمانوں سے نفرت کیوں جبکہ وہ مداخلت کار کی طرح نہیں بلکہ قانونی طریقہ سے برسہا برس قبل آئے تھے۔ حکومت کا یہ دہرا معیار قابل مذمت ہے۔
صدیوں سے ہندوستان کی روایت رہی کہ جو یہاں آیا، اسے ملک نے اپنالیا۔ زبان ، مذہب اور نسل سے تعلق کے بغیر ہی ہندوستان میں ہر شخص کو اپنے وسیع دامن میں پناہ دے دی لیکن آج کچھ کوتاہ ذہن عناصر ملک کی اس روایت کو بدنام کرنا چاہتے ہیں۔ ہندوستان میں کئی ہندو طبقات کا دیگر ممالک سے پہنچنا تاریخ میں ثابت ہے لیکن اعتراض صرف مسلم اقلیت پر ہے۔ اب تو بعض سنگھی قائدین مسلمانوں کو گولی مار دینے کا مشورہ دے رہے ہیں۔

اس طرح کا مشورہ دینے والے شائد یہ بھول گئے کہ مسلمان مرنے کے بعد بھی ہندوستان کی زمین میں دفن ہوتا ہے اور وہ دو گز زمین کا حصہ دار بن جاتا ہے ۔ برخلاف اس کے دوسروں کی راکھ ہندوستان سے نکل کر کس ملک کو چلی جائے اس کا کوئی ثبوت نہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ 40 لاکھ افراد کو آخر کہاں بھیجا جائے گا۔ کونسا ملک انہیں قبول کرے گا۔ ان حالات میں دنیا بھر میں ہندوستان کا امیج یقینی طور پر متاثر ہوگا۔ آسام کے 40 لاکھ متاثرین کے حق میں جدوجہد کیلئے ترنمول کانگریس کی صدر ممتا بنرجی میدان میں آچکی ہیں ۔ انہوں نے مرکز کو چیلنج کیا ہے کہ وہ مغربی بنگال میں اس طرح کی کارروائی کر دکھائے۔ ممتا بنرجی منظم جدوجہد کیلئے نئی دہلی پہنچ گئیں جہاں پارلیمنٹ میں ان کی پارٹی کے ارکان مسلسل احتجاج کر رہے ہیں۔ ممتا بنرجی نے قومی سطح پر اپوزیشن کو متحد کرنے کی کوششوں کا آغاز کیا ہے ۔ مسلمانوں سے متعلق مسئلہ پر ممتا بنرجی بے خوف میدان میں کود پڑی ہیں لیکن مسلم محاذ خواب غفلت کا شکار ہے۔ مسلم جماعتیں اور ان کے قائدین جو خود کو مسلمانوں کا ترجمان ظاہر کرنے میں سبقت لے جاتے ہیں ، وہ تمام آسام کے مسئلہ پر مصلحتوں اور خوف کا شکار دکھائی دے رہے ہیں ۔ کہاں ہے مسلم مجلس مشاورت اور ملی کونسل جس کے قیام کا مقصد مسلمانوں کے حقوق کے لئے جدوجہد کرنا تھا۔ پارلیمنٹ اور اس کے باہر کوئی بھی مسلم قیادت کا دعویدار اعداد و شمار کے ساتھ حکومت سے ٹکراؤ کے لئے تیار نہیں۔ مسلمانوں کے کچھ خود ساختہ نمائندے محض سوشیل میڈیا کے دولہے بنے ہوئے ہیں۔ یہ صورتحال مسلمانوں کیلئے واقعی افسوسناک ہے کیونکہ ایک منظم انداز میں مسلمانوں کی شہریت پر کاری ضرب لگی ہے۔ یہ مسئلہ گاؤ رکھشکوں کی جانب سے بے قصور مسلمانوں کے قتل سے زیادہ سنگین ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ اس بات کی وضاحت کرے کہ 40 لاکھ افراد میں مسلمان کتنے ہیں۔ صرف بنگالی زبان بولنے والے اور مسلمانوں کو نشانہ کیوں بنایا جارہا ہے ۔ بی جے پی کے نشانہ پر مغربی بنگال کی ترنمول کانگریس حکومت ہے۔ آسام کی طرح ممتا بنرجی کو شکست دینے کی سازش کی جارہی ہے اور وہ مزاحمت کے ذریعہ قومی ہیرو بن چکی ہے۔ بی جے پی کیلئے مغربی بنگال میں یہ کھیل مہنگا ثابت ہوگا۔ مرکزی حکومت نے ایس سی ، ایس ٹی ایکٹ میں ترمیم کو منظوری دیتے ہوئے سپریم کورٹ کے حالیہ احکامات کو بے اثر کرنے کی کوشش کی ہے۔ سپریم کورٹ نے حال ہی میں ایس سی ، ایس ٹی ایکٹ کی بعض دفعات پر اعتراض جتایا تھا۔ پارلیمنٹ میں پسماندہ طبقات کے تحفظ کیلئے بھی قانون سازی کی گئی۔ دو دنوں میں دو علحدہ قانون منظور کئے گئے۔ ہمیں ایس سی ، ایس ٹی اور بی سی طبقات کو تحفظ فراہم کرنے سے کوئی اختلاف نہیں لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ملک بھر میں بے قصور مسلمانوں کی ہلاکتوں کا سلسلہ جاری ہے لیکن حکومت کو مسلمانوں کے حق میں قانون سازی کی کوئی فکر نہیں۔ مسلمان ملک میں دیگر مذاہب کی طرح برابر کے شہری ہیں۔ ملک کی دوسری بڑی اکثریت اور سب سے بڑی اقلیت کے ساتھ بی جے پی حکومت کا رویہ دوسرے درجہ کے شہریوں کی طرح ہے۔ افسوس اس بات پر ہے کہ مسلمان مقابلہ کرنے کے بجائے صرف حالات کا رونا رو رہے ہیں۔ کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے ؎
جب گلستاں کو خون کی ضرورت پڑی
سب سے پہلے ہماری ہی گردن کٹی
پھر بھی کہتے ہیں ہم سے یہ اہل وطن
یہ چمن ہے ہمارا، تمہارا نہیں