لکھنؤ۔/17اکٹوبر، ( سیاست ڈاٹ کام ) صدر بی ایس پی مایاوتی نے مرکز کی بی جے پی حکومت اور اتر پردیش کی سماج وادی پارٹی حکومت کو عوام کو ایک پرسکون ماحول فراہم کرنے میں ناکامی پر مورد الزام ٹھہرایا۔ بی ایس پی کے ایک اجلاس میں مایاوتی کا تذکرہ کرتے ہوئے ایک اخبار نے ان کے کہے گئے الفاظ کو من و عن دہراتے ہوئے کہا کہ قومی سطح پر بی جے پی حکومت اور ریاستی سطح پر سماج وادی پارٹی نے عوام کو ایک پرسکون و پرامن بھائی چارہ کے جذبات سے پُر اور انصاف پسند ماحول فراہم نہیں کیا۔
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور یو پی میں سماج وادی پارٹی کے درمیان مسابقت جاری ہے کہ بلند بانگ دعوے کرتے ہوئے عوام کو گمراہ کرنے میں کون بازی مارتا ہے۔ مرکزی اور ریاستی دونوں حکومتیں دلتوں، پسماندہ طبقات، اقلیتوں خصوصی طور پر مسلمان اور غرباء کے مفاد میں ہرگز کام نہیں کررہی ہیں جو یقینی طور پر قومی سطح پر بھی دونوں حکومتوں کیلئے نقصاندہ ثابت ہوگا۔ مایاوتی نے اتر پردیش اور اتر کھنڈ کے سینئر پارٹی لیڈروں اور دفتری ارکان سے خطاب کے دوران یہ بات کہی۔ انہوں نے کہا کہ اب تو اپوزیشن پارٹیوں کے علاوہ عوام بھی بہوجن سماج پارٹی کے اس ریمارک سے متفق نظر آتے ہیں جہاں بی ایس پی نے اسے جنگل راج سے تعبیر کیا تھا کیونکہ جہاں امن و ضبط کا فقدان ہو وہ بستی انسانوں کے رہنے لائق تو نہیں ہوسکتی۔ مایاوتی نے کہا کہ برقی بحران نے عوام کو مزید پریشان کررکھا ہے۔ آئینی روایتوں اور قانون کو بالکل نظرانداز کیا جارہا ہے جس کا نتیجہ جرائم کی صورت میں سامنے آرہا ہے۔ ہر طرف بدعنوانیوں کا بول بالا ہے جہاں عام آدمی کو ہراساں کیا جارہا ہے۔
مایاوتی نے اپنی پارٹی کے مطالبہ کا تذکرہ کرتے ہوئے گورنر اتر پردیش رام نائیک کے اس بیان کا بھی حوالہ دیا جہاں انہوں نے ریاست کے لاء اینڈ آرڈر پر تشویش کا اظہار ایک بار نہیں بلکہ کئی بار کیا ہے لیکن صرف اظہار تشویش کردینا مسئلہ کا حل نہیں ہوسکتا۔ لہذا بی ایس پی اب گورنر سے اس بات کی خواہاں ہے کہ وہ ریاست یو پی کے زمینی حقائق سے مرکز کو تحریری طور پر واقفیت کروائے اور ریاست میں صدر راج کے نفاذ کے لئے اپنی سفارش پیش کرے کیونکہ جب ریاست میں جنگل راج ہو تو صدر راج کا نفاذ ناگزیر ہوجاتا ہے ورنہ سماج وادی پارٹی کے علاوہ بی جے پی بھی عوام کی نظروں سے گرجائے گی اور ریاست میں خراب نظم و ضبط کے لئے بی جے پی کو بھی یکساں طور پر ذمہ دار قرار دیا جائے گا۔