یو پی اے تیسری بار بھی حکومت تشکیل دے گی : کھرگے

گلبرگہ :/19 مارچ ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) مرکزی وزیر ریلوے ڈاکٹر ملیکارجن کھرگے نے ایک صحافتی بیان میں بڑے پر اعتماد لہجہ میں اور پورے یقین کے ساتھ کہا ہے کہ کانگریس کی زیر قیادت یو پی اے تیسری بار بھی مرکز میں حکومت تشکیل دینے میں کامیاب ہوجائیگی ۔نہایت کامیابی کے ساتھ بحیثیت لیڈر، رکن اسمبلی ، تمام ریاستی کانگریسی وزارتوں میں شامل وزیر و مرکزی وزیرکی حیثیت سے اجتماعی طور پر کانگریس میں42 سال مکمل کرنے والے ڈاکٹر کھرگے جنھوں نے کالج یونئین کے انتخابات سے لیکر اسمبلی و پارلیمینٹ کے انتخابات تک ایک بار بھی ناکامی کا سامنا نہیں کیا ہے اور متواتر وزارتی عہدوں پر فائض رہے ہیں۔جب ڈاکٹر کھرگے سے سوال کیا گیا کہ کیا آپ محسوس کرتے ہیں کہ ملک بھر میں مودی کی جو مبینہ لہر چل رہی ہے اس سے کانگریس کو کچھ نقصان پہنچے گا تو اس کے جواب میں انھوں نے کہا کہ وہ نہیں محسوس کرتے کہ ملک میں مودی کی کوئی لہر ہے ، یہ محض میڈیا گھرانوں کی تخلیق کردہ باتیں ہیں۔ مودی گجرات کوترقی کی مثال بناکر پیش کررہے ہیں ۔ جبکہ ایسا نہیں ہے ، وہ اس بات کو نظر انداز کررہے ہیں کہ گجرات کی ان کی یہ مثال سارے ملک کے لئے موزوں ثابت نہیں ہوسکتی۔یہ ایک وسیع ترین ، کئی مذاہب،ذاتوں،فرقوں پر مشتمل کثیر آبادی والا ملک ہے جہاں کئی ایک زبانیں بولی جاتی ہیں۔ مختلف تہذیبیں ایک دوسرے میں مل گئی ہیں۔ہمارا ملک ایک سوشئیل ، جمہوری اور سیکولر نظریات پر مشتمل ملک ہے ۔ لیکن تعجب خیز امر ہے کہ بی جے پی ان تمام مذکورہ بالا حقائق کو نظر انداز کرکے محض ایک شخصیت پر تکیہ کئے ہوئے ہے جو خون آلودہ ہے۔مودی اور ان کے سیاسی منیجرس مودی کوعوام کے سامنے ان کے قد سے بڑھا چڑھاکر پیش کرنے اور شخصیت کو ابھار کر پیش کرنے میں لگے ہوئے ہیں تاکہ ایسا کرنے سے پارٹی میں جان پڑ جائے۔جب ڈاکٹر کھرگے سے پوچھا گیا کہ مرکز کی یو پی اے دوم سرکار کے خلاف اب تک حکومتوں میں سب سے زیادہ رشوت خوری کے الزاعات عائد کئے گئے ہیں کیا اس سے کانگریس اور یوپی اے حکومت کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا تو جواب میں ڈاکٹر کھرگے نے کہا کہ کانگریس پر جو رشوت خوری یا اسکیامس کے الزامات عائد کئے گئے ہیں وہ سب سیاسی طور پر کھڑے کئے گئے ہیں ۔ سابق میں2009میں بھی اپوزیشن جماعتوں نے یوپی اے اول کی حکومت کے خلاف بھی اسی طرح کے الزامات عائد کئے گئے تھے لیکن اس کے باوجود کانگریس 2004کے مقابلہ میں 2009میں اور بھی زیادہ طاقت ور بن کر ابھری۔

ڈاکٹر کھرگے سے جب کرناٹک کی سدرامیا حکومت کی کارکردگی کے بارے میں دریافت کیا گیا تو انھوں نے کہا کہ سدرامیا بہتر خدمات انجام دے رہے ہیں اور انھوں نے اسمبلی انتخابات سے قبل ریاستی عوام سے جو وعدے کئے تھے انھیں پورا کررہے ہیں۔ گزشتہ دس مہینوں کے دوران ریاستی حکومت کی کار کردگی قابل ستائش رہی ہے جس کے نتیجہ میں اس بار پارلیمانی انتخابات میں کانگریس کو کم از کم 20تا 22نشستیں ملنے کی امید ہے۔ ڈاکٹر کھرگے سے جب پوچھا گیا کہ ان کے خیال میں کیاقوم دشمن اور سماج دشمن عناصراپنے سیاسی مفادات کے حصول کے لئے ماحول کو بگاڑنے اور فرقہ وارانہ ہم اہنگی میں دراڑیں ڈالنے کی کوشش کریں گے تو جواب میں انھوں نے کہا کہ کرناٹک کی ریاست اپنی سماجی و فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لئے مشہور ہے اور میں امید رکھتا ہوں کہ عوام سماج دشمن عناصر اور مفادات حاصلہ رکھنے والوں کے آگے اپنے سر نہیں جھکائیں گے۔