نیپئر (نیوزی لینڈ)، 4 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) پاکستان نے اپنی متواتر دوسری جیت حاصل کرتے ہوئے کوارٹرفائنلس کی دوڑ میں خود کو برقرار رکھا جبکہ انھوں نے کمزور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کو کرکٹ ورلڈ کپ کے آج یہاں پول B میچ میں 129 رنز سے واضح شکست دے دی۔ اوپنر احمد شہزاد (93) سنچری بنانے سے چوک گئے لیکن پاکستان نے یو اے ای کے بولروں کی پٹائی کرتے ہوئے 339/6 کا ہمالیائی اسکور کھڑا کیا، جو اُن کے حریفوں کی دسترس سے بہت دور ثابت ہوا۔ یو اے ای والے 210/8 اسکور کرپائے مگر اتنا اچھا ضرور کیا کہ مکمل 50 اوورس بیٹنگ کئے، جس میں شائمن انور نے 62 رنز بنائے، جو اُن کی تیسری ونڈے ہاف سنچری ہے۔ دیگر نمایاں اسکوررس خرم خان (43) اور امجد جاوید (40) ہیں۔ پیس بولرس سہیل خان (2/54) اور وہاب ریاض (2/54) کے ساتھ اسپن آل راؤنڈر شاہد آفریدی (2/35) نے پاکستان کیلئے دو، دو وکٹیں لئے۔ اس کامیابی کے ساتھ پاکستان پوائنٹس ٹیبل میں چھٹے مقام سے چوتھے پر آگیا ہے۔ پاکستان کا بڑا اسکور بھلے ہی غیرمتاثرکن بولنگ کے خلاف بنایا گیا لیکن اُن کے بیٹسمنوں کو اشد ضروری رنز حاصل ہوئے جبکہ کوارٹرفائنلس کیلئے مسابقت زور پکڑ رہی ہے۔
بیٹنگ کیلئے مدعو کئے جانے کے بعد پاکستان نے اوپنر ناصر جمشید (4) کو جلد کھو دیا لیکن شہزاد اور حارث سہیل جنھوں نے 70 رنز بنائے، دونوں نے دوسری وکٹ کیلئے 170 رنز کی بڑی رفاقت کے ذریعہ ہمالیائی اسکور کی بنیاد رکھی۔ محمد نوید نے سہیل کو انور کے ذریعہ کیچ کراتے ہوئے یہ پارٹنرشپ توڑی۔ اس کے بعد شہزاد ورلڈ کپ سنچری کے سنگ میل سے محروم ہوئے جب وہ رن آؤٹ کردیئے گئے اور اس طرح پاکستان نے دو وکٹیں تیزی سے کھوئے۔ شہزاد کی 93 رنز کی اننگز 105 گیندوں میں نو باؤنڈریوں بشمول ایک چھکے سے مزین رہی۔ بعد میں آنے والے بیٹسمنوں نے بھی یو اے ای اٹیک کو معمولی جان کر کھیلا جیسا کہ وہ مرضی کے مطابق رنز بناتے رہے۔ صہیب مقصود نے جارحانہ 45 اسکور کئے اور کیپٹن مصباح الحق نے 49 گیندوں میں 65 رنز کے ساتھ اننگز کو مزید استحکام بخشا۔ مقصود اور مصباح دونوں نے فی کس چار چوکے لگائے اور دو مرتبہ گیند کو باؤنڈری کے اوپر سے بھیجا۔ مصباح کو اننگز کے آخری مرحلے میں آؤٹ کیا گیا ،
جب انھوں نے لیفٹ آرم پیس بولر منجولا گروگے کو بڑا شاٹ مارنے کی کوشش کی ۔ تاہم آفریدی نے اختتامی ذمے داری بخوبی نبھاتے ہوئے 21 ناٹ آؤٹ رنز صرف سات گیندوں میں دو چھکوں اور ایک چوکے کی مدد سے بنائے ۔ گروگے یو اے ای کے سب سے کامیاب بولر رہے جیسا کہ انھوں نے چار وکٹیں لئے۔ محمد توقیر زیر قیادت یو اے ای کی جوابی اننگز کی شروعات شاید ہی مناسب ہوئی کیونکہ انھوں نے ابتدائی 10 اوورس میں 25 رنز کے عوض تین وکٹیں کھو دیئے۔ اس کے بعد خرم اور انور نے 83 رنز چوتھی وکٹ کیلئے جوڑتے ہوئے اپنی ٹیم اننگز کو منتشر ہوجانے سے روکا۔ مقصود نے یہ پارٹنرشپ توڑی جب انھوں نے خرم کو پویلین لوٹایا اور پھر بعد والے بیٹسمنوں نے بقیہ 20 اوورس کوئی بکھراؤ کے بغیر کھیلے۔ تاہم محض محتاط بیٹنگ سے مقصد کی تکمیل ہونے والی نہ تھی اور پاکستان نے آسان جیت درج کرائی۔ شہزاد کو ’مین آف دی میچ‘ ایوارڈ ملا۔ پاکستان کو اب ہفتہ 7 مارچ کو جنوبی افریقہ سے کھیلنا ہے۔
سرفراز سے اننگز کا آغاز نہیں کراسکتے : وقار یونس
اس دوران پاکستان کے وکٹ کیپر ۔ بیٹسمن سرفراز احمد کی قطعی گیارہ کھلاڑیوں میں لگاتار عدم شمولیت کے تعلق سے ہنوز اسرار کے پردے پڑے ہیں۔ رواں ورلڈ کپ میں پاکستان کے مسلسل ناکام اوپنر ناصر جمشید کی جگہ پر اب تک ریگولر وکٹ کیپر بیٹسمین سرفراز کو ٹیم میں شامل نہیں کیا جارہا ہے۔ تاہم ہیڈکوچ وقار یونس کا کہنا ہے کہ سرفراز سے اننگز کا آغاز نہیں کراسکتے۔ انہوں نے ایک پاکستانی ٹی وی نیوز چیانل سے گفتگو میں کہا کہ ’’مجھے نہیں معلوم کہ سرفراز اوپنر بھی ہے!‘‘