لکھنو ۔ 19 جون ۔( سیاست ڈاٹ کام ) اُترپردیش کے بی جے پی کے ایک رکن اسمبلی نے اسٹیٹ الیکٹریسٹی ڈپارٹمنٹ پر الزام عائد کیا کہ وہ مسلم کمیونٹی کے عوام کی جانب سے برقی چوری کی صورت میں ’’نرم ‘‘ رویہ اختیار کررہا ہے اور مناسب کارروائی نہیں کررہا ہے ۔ کاوشمبی ڈسٹرکٹ میں حلقہ اسمبلی چٹیل کے رکن اسمبلی سنجے کمار نے اس مسئلہ کو اسمبلی میں اُٹھانے کی بھی دھمکی دی ۔ ایک ویڈیو میں جو سوشیل میڈیا میں وائرل ہوگیا ، اس رکن اسمبلی کو محکمہ برقی کے ایک عہدیدار کو یہ بتاتے ہوئے سنا گیا ’’آپ مجھے یکم اپریل سے آج کی تاریخ تک مسلمانوں کے گھروں پر کئے گئے دھاؤں کی تفصیلات (ڈیٹا) فراہم کیجئے اور یہ بھی بتائیں کہ آپ نے کتنے لوگوں کے خلاف ایف آئی آر درج کروایا ہے ‘‘ ۔ اس رکن اسمبلی نے ، جنھوں نے حال ہی میں دیگر عوام کے ساتھ محکمہ برقی کے دفتر گئے تھے ، یہ بھی کہا تھا کہ بلالحاظ مذہب تمام لوگوں کے برقی کنکشنس کی جانچ کی جانی چاہئے اور اس کے مطابق ضروری کارروائی کی جانی چاہئے ۔ گفتگو کے دوران کمار نے کہا کہ ’’میں آپ ( محکمہ برقی کے عہدیدار) کے خلاف ایک ایف آئی آر درج کرواؤں گا ‘‘ ۔ انھوں نے کہاکہ ’’مسلمانوں کے محلہ جات میں جائیں وہ لوگ 90 فیصد برقی چوری میں ملوث ہیں اور اس کیلئے ذمہ دار ہیں۔ مسلمانوں کے خلاف کتنے ایف آئی آر درج کروائے گئے اس کی تفصیلات مجھے فراہم کریں۔میں اس معاملہ کو لکھنو میں اُٹھاؤں گا ۔ آپ لوگوں کو صرف ہندوؤں کو ہراساں کرنے کی عادت ہوگئی ہے ۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ دوسری کمیونٹی کے معاملہ میں آپ کا رویہ نرم ہے ‘‘۔ بعد ازاں میڈیا سے مخاطب ہوتے ہوئے محکمہ برقی کے ایگزیکٹیو انجینئر اویناش سنگھ نے کہاکہ ’’بی جے پی کے رکن اسمبلی نے کہا کہ ڈپارٹمنٹ کی جانب سے دوسری کمیونٹی کے خلاف کیوں کارروائی نہیں کی جاتی ہے ، ان کے ارکان خاندان ، رشتہ داروں اور حامیوں کو کیوں نشانہ بنایا جاتا ہے ۔ مسٹر سنگھ نے کہاکہ ریاستی حکومت کا منشا برقی چوری کا تدارک کرنا ہے تاکہ برقی کی مناسب سربراہی یقینی ہو ۔