صنعا۔19ستمبر(سیاست ڈاٹ کام)مشرق وسطیٰ کے تین ممالک-عراق،شام اور یمن جہاں گزشتہ کئی سال سے خاک و خون کی ہولی کھیلی جارہی ہے ،ان میں سب سے زیادہ متاثر معصوم بچے ہورہے ہیں۔جنگ کی وجہ سے یہاں کے کاروباری زندگی معطل ہوکر رہ گئی ہے ۔جنگ سے جہاں لوگوں کی جانیں جارہی ہیں ،وہیں اس کے جلو میں فاقہ کشی،بھکمری،قحط اور مفلوک الحالی لے کر آئی ہے جس کی وجہ سے لوگوں کا جینا دشوار کردیا ہے ۔یمن میں گزشتہ کئی سال سے یہاں کی فوج اورحوثی ملیشیا کے درمیان جنگ ہورہی ہے ۔یہاں کے تنازعہ کو نمٹانے کیلئے سعودی عرب کی قیادت میں فوج بھی کود پڑی،مسئلہ کا حل تو نہیں ہوا،لیکن ہاں یہاں کے لوگوں بالخصوص معصوموں کی زندگی جہنم بن کر رہ گئی۔بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے بین الاقوامی ادارے سیو دی چلڈرن کا کہنا یمن میں مزید 10 لاکھ بچے قحط کے خطرے سے دوچار ہیں۔بی بی سی کے مطابق ادارے کا کہنا ہے کہ جنگ کی وجہ سے اشیائے خورد کی کی قیمتوں میں اضافہ اور یمنی کرنسی کی گرتی ہوئی قدر مزید خاندانوں کو خوراک کی کمی کا شکار کرے گا۔لیکن ایک اور بڑا خطرہ حدیبیہ شہر کے گرد جنگ کی وجہ سے ہے کیونکہ اسی بندرگاہ پر امدادی سامان پہنچتا ہے جسے جنگ کے شکار علاقوں تک پہنچایا جاتا ہے ۔سیو دی چلڈرن کے مطابق ملک میں اس وقت 50لاکھ 20 ہزار بچے قحط کا سامنا کر رہے ہیں۔