یمن: سعودی اتحادیوں کی کارروائی اور تازہ جھڑپیں، 50ہلاک

ایران کی یمن میں جنگ بندی کی اپیل کو سعودی عرب نے مسترد کردیا
ریاض ۔ 13 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) یمن میں سعودی اتحادیوں کی فضائی کارروائی اور تازہ جھڑپوں میں مزید 50 افراد ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔ جبکہ یمن سرحد پر تازہ جھڑپ میں 3سعودی فوجی ہلاک اور 2زخمی ہوگئے ہیں۔ ریاض میں پریس کانفرنس کے دوران اتحادی فوج کے ترجمان برگیڈئیر جنرل احمد عسیری نے بتایا کہ یمن میں اتحادی طیاروں نے 26 مارچ سے اب تک 12سو فضائی حملے کیے۔ جس کے نتیجے میں حوثی باغیوں کی فضائی اور بیلسٹک صلاحیتیں بری طرح ناکام ہوئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یمن میں زمینی کاروائی مناسب وقت پر شروع کردی جائے گی۔ سعودی وزارت دفاع کے مطابق ا?پریشن میں یمن کی سرحد پر جھڑپوں کے دوران اب تک 500باغی مارے جاچکے ہیں، جبکہ جمعہ کو جھڑپ کے دوران مارٹر حملے میں 3سعودی فوجی ہلاک اور 2 زخمی ہوئے ہیں۔ جس کے بعد سرحد پر جھڑپوں میں مرنے والے سعودی فوجیوں کی تعداد 6ہوگئی ہے۔ ایک غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق تازہ حملوں میں صنعا کے شمال میں سابق صدر علی عبداللہ صالح کے حامیوں کے فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا ہے، جس میں8 باغی مارے گئے، جبکہ عدن میں سرکار کے حامی جنگوئوں اور حوثی باغیوں کے درمیان جھڑپوں میں مزید 42افراد کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔ عالمی ادارے ریڈ کراس کے ترجمان کے مطابق حملوں کے باوجود اقوام متحدہ اور عالمی ریڈ کراس نے عدن اور صنعا میں 46ٹن سے زیادہ طبی اور دیگر امدادی سامان پہنچایا۔سعودی عرب جس کی اتحادی افواج نے یمن میں فضائی حملوں کا سلسلہ جاری رکھا ہے، اس کا کہنا ہیکہ ایران کو یمن کی جنگ میں دخل اندازی نہیں کرنی چاہئے۔ سعودی عرب نے اتوار یمن کے شہر طائز کے ایک ملٹری کیمپ پر حملہ کیا تھا، جس میں 8 شہری ہلاک ہوگئے تھے اور ایران نے سعودی سے درخواست کی تھی کہ وہ یمن پر فضائی حملوں کا سلسلہ مسدود کردے۔ سعودی کی قیادت والی افواج شیعہ حوثیوں کے خلاف کارروائی کررہی ہے تاکہ انہیں مزید پیشرفت سے روکا جائے اور اسی لئے سعودی عرب نے ایران کو جنگ میں مداخلت نہ کرنے کا انتباہ دیا ہے۔ فضائی حملوں کا نشانہ ایک ایسے مرکز پر تھا جہاں یمن کے سابق صدر علی عبداللہ صالح کے وفادار فوجی موجود تھے۔ دریں اثناء سعودی عرب کے وزیرخارجہ سعود الفیصل نے ریاض میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران ہمیں یمن میں جنگ بندی کی نصیحت کیوں کررہا ہے؟ ہم یہاں صرف حق پرستوں کی مدد کیلئے آئے ہیں اور ایران یمن کا انچارج نہیں۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہیکہ تین روز قبل ایران کے اعلیٰ قائد آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا تھا یمن پر فضائی حملے جرم اور نسل کشی کے مترادف ہیں۔ صدر ایران حسن روحاننی نے فوری طور پر جنگ بندی کا مطالبہ کیا تھا۔