یمنی دارالحکومت میں سعودی طیاروں کا حملہ

صنعا ، 19 مئی (سیاست ڈاٹ کام) سعودی عرب کی قیادت میں جنگی طیاروں نے آج صنعا میں یمنی باغیوں اور اُن کے اتحادیوں کو نشانہ بنایا جو باغیوں کے زیرقبضہ دارالحکومت پر پانچ روزہ صلح کے اختتام کے بعد سے پہلی کارروائی ہے ، عینی شاہدین نے یہ بات بتائی ۔ سعودیہ زیرقیادت اتحاد نے دوشنبہ کی ابتدائی ساعتوں میں اپنی بمباری مہم کا احیاء کردیا جس کے تحت دوسرے شہر عدن کو بھی نشانہ بنایا گیا ۔ اس کارروائی کا پس منظر یہ ہے کہ باغیوں کو عارضی فائربندی کی خلاف ورزی کا مورد الزام ٹھہرایا گیا ہے ، جو گزشتہ شب ختم ہوگئی ۔ اس دوران اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ یمن میں جاری تنازعے کے باعث اب تک ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 1850 سے بڑھ گئی ہے۔ سعودی قیادت میں اتحادیوں کے حملوں اور ملک کی بگڑتی صورتحال کے باعث اب تک پانچ لاکھ سے زائد لوگ بے گھر ہو چکے ہیں۔ ادھر سعودی قیادت میں اتحادی افواج نے یمنی دارالحکومت صنعاء میں متعدد نئے فضائی حملے کئے ہیں۔ اتوار کے روز ختم ہونے والی پانچ روزہ جنگ بندی کے بعد صنعاء میں یہ پہلے فضائی حملے تھے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز نے مقامی رہائشیوں کے حوالے سے بتایا ہے کہ گزشتہ شب شہر کے مشرق اور جنوب میں سابق صدر علی عبداللہ صالح کے حامی فوجی دستوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ سعودی عرب کی قیادت میں اتحادی فوج کی جانب سے 26 مارچ کو یمن میں سرگرم ایران نواز حوثی باغیوں کے خلاف فضائی حملوں کا آغاز کیا گیا تھا۔اتحادی طیاروں نے بحراحمر کے ساحل پر صوبہ حدیدہ کے فضائی دفاع اور کوسٹ یارڈ کے اڈوں کو بھی نشانہ بنایا ۔