یروشلم میں بدامنی کی لہر، 3 ہلاک اور 3 زخمی

یروشلم 13 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) یروشلم میں آج کا دن انتہائی خونریز رہا اور بدامنی کی جاری اِس لہر میں تقریباً 3 افراد ہلاک اور تین افراد زخمی ہوگئے۔ پہلا واقعہ اُس وقت پیش آیا جب حملہ آور نے یروشلم میں بس پر فائرنگ کردی۔ گزشتہ دو ہفتہ سے جاری بدامنی کی اِس لہر میں پرتشدد احتجاج کے ساتھ ساتھ چاقو سے حملہ کے سلسلہ وار واقعات پیش آئے ہیں اور پھر ایک بار فلسطینی انتفادہ کے اندیشے اُبھر رہے ہیں۔ اِس سے پہلے 1987 ء تا 1993 ء میں پہلا اور 2000 ء تا 2005 ء دوسرے انتفادہ کی لہر میں ہزاروں افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ اسرائیل اور فلسطین کے مابین تشدد کے واقعات روزانہ پیش آرہے ہیں۔ آج بس پر کئے گئے حملہ میں جہاں حملہ آور نے پستول کا استعمال کیا وہیں ایک اور واقعہ میں دو حملہ آوروں نے چاقوؤں سے لیس تھے مشرقی یروشلم کی بس میں سفر کررہے 15 افراد کو نشانہ بنایا۔ دو اسرائیلی بشمول ایک 60 سالہ شخص ہلاک اور 10 زخمی ہوگئے۔ اسی طرح کے ایک اور واقعہ میں جو یروشلم کے یہودی آبادی والے علاقہ میں پیش آیا ایک حملہ آور نے بس اسٹاپ پر ٹھہرے ہجوم میں اپنی کار گھسادی اس کے بعد وہ چاقو لئے کار سے باہر نکلا۔ اس حملہ میں بھی ایک شخص ہلاک اور 8 زخمی ہوگئے۔ تاحال یہ واضح نہیں ہوسکا کہ اِن تمام حملوں کا ایک دوسرے سے ربط ہے یا نہیں۔ یروشلم حملوں کا سلسلہ اُس وقت شروع ہوا جب ایک فلسطینی نے تل ابیب میں ایک شخص چاقو گھونپ دی اور ایک دوسرے شخص کو زخمی کردیا تھا۔ بدامنی کے دوران جاں بحق ہونے والے فلسطینیوں کے جلوس جنازہ اور اسرائیلی سکیوریٹی فورسیس کی کارروائیوں سے متعلق ویڈیوز کے باعث عوامی برہمی میں اضافہ ہورہا ہے۔