برسبین ۔ 5 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) دنیا کے نمبر ون تصور کئے جانے والے کھلاڑی راجر فیڈرر کے لئے نئے سال کی شروعات اچھی نہیں رہی۔ فیڈرر کو برسبین انٹرنیشنل ٹینس ٹورنمنٹ کے فائنل میں اتوار کو برسبین میں آسٹریلیا کے لاطینی ہیوٹ کے ہاتھوں تین سیٹ تک چلے مقابلے میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ فیڈرر کو اس ٹورنمنٹ میں سب سے اوپر ترجیح دی گئی تھی، لیکن دنیا میں چھٹویں نمبر کے اس کھلاڑی کو آخر میں دو گھنٹے 7 منٹ تک چلنے والے اس میچ میں 1-6، 4-6، 3-6 سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ گزشتہ سال فیڈرر کیلئے مشکلات سے بھرا رہا۔ جس میں وہ آئی ٹی پی رینکنگ میں چوٹی کے پانچ کھلاڑیوں کی فہرست سے بھی باہر ہوگئے۔
نہیں 13 جنوری سے شروع ہونے والے آسٹریلیا اوپن سے پہلے نئے سال میں اچھی شروعات کی توقع تھی لیکن انہوں نے ابتداء سے ہی غلطیاں کیں۔ سوئز کھلاڑی نے اس پورے ہفتہ اپنی سرویس نہیں گنوائی تھی لیکن ہیوٹ کے خلاف انہوں نے شروع شروع میں ناقص کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور پہلے گیند میں ہی اپنی سرویس گنوا دی۔ ہیوٹ نے پہلا سیٹ صرف 27 منٹ میں جیت لیا۔ فیڈرر نے دوسرے سیٹ میں بھی ناقص شروعات کے باوجود واپسی کی اور ہیوٹ کو اس دوران اپنی سرویس پر قابو رکھنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا، تاہم تیسرے اور فیصلہ کن سیٹ میں فیڈرر نے چوتھے گیند میں سرویس گنوا دی جس کے بعد ہیوٹ کو خطاب جیتنے میں کوئی پریشانی نہیں ہوئی۔ ہیوٹ کا یہ آئی ٹی پی ٹور میں 29 واں خطاب ہے۔ انہوں نے اس سے پہلے اپنا آخری خطاب سال 2010ء میں حاصل کیا تھا۔ اس وقت بھی فائنل میں انہوں نے راجر فیڈرر کو شکست دی تھی۔
گلمرگ میں اسکیٹنگ کورس کا آغاز
گلمرگ (کشمیر)۔5 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) برف سے ڈھکے کشمیر میں موسم سرما میں کھیل کود کی سرگرمیاں شروع ہوگئی ہیں اور ہندوستانی ادارہ آئی آئی ایس ایم گلمرگ ریسارٹ میں اس سیشن کا پہلا اسکیٹنگ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ مذکورہ آئی آئی ایس ایم نامی ادارہ کے ترجمان نے کہا کہ آئی آئی ایس ایم نے جاریہ سردی کے موسم میں اسکیٹنگ ریسارٹ میں کم برفباری کے باوجود گلمرگ میں پہلا اسکیٹنگ کورس کا اہتمام کیا ہے۔ جاریہ سال برفباری غیرمعمولی رہی کیونکہ تمام دور دراز اور مضافاتی علاقوں اور وادی کشمیر میں کافی حد تک برف باری ہوئی ہے۔ جبکہ اس کے مقابلے میں گلمرگ علاقہ میں نسبتاً کم برفباری ہوئی ۔ اس کے باوجود مذکورہ ادارہ کی جانب سے موسم کے اعتبار سے اسکیٹنگ کورس کا اہتمام کیا گیا ہے تاکہ موسم سے لطف اندوز ہونے کے علاوہ اس کھیل کو مزید فروغ دیا جاسکے اور تشدد سے متاثرہ ذہنوں کو کسی حد تک سکون حاصل ہوسکے۔