ممبئی 18 سپٹمبر (سیاست ڈاٹ کام) صدر چین ژی جن پنگ کی آج غیر متوقع شعبہ سے تعریف و تحسین کی گئی۔ وزیراعظم نریندر مودی اور صدر چین کی بات چیت کو پیش نظر رکھتے ہوئے تبت کے جلاوطن رہنما دلائی لاما نے اُن کی تعریف کرتے ہوئے کہاکہ وہ کھلا ذہن رکھنے والے اور حقیقت پسند ہیں۔ دلائی لاما نے ہند ۔ چین باہمی روابط کا انحصار ایک دوسرے پر یقین کرنے میں ہے اور اِس کا فائدہ نہ صرف ایشیاء بلکہ ساری دنیا کو ہوگا۔ اُنھوں نے ہندوستان کے سرحدی مسئلہ کا چین کے ساتھ تبت کے جاری مسئلہ کو مربوط کرتے ہوئے کہاکہ صرف بات چیت کے ذریعہ ہی یہ مسئلہ حل کیا جاسکتا ہے اور اِسے طاقت سے حل نہیں کیا جاسکتا۔ دلائی لاما کا یہ تبصرہ ایسے وقت سامنے آیا جبکہ صدر چین ژی جن پنگ اور وزیراعظم نریندر مودی کے مابین بات چیت جاری ہے۔ ساتھ ہی ساتھ چین اور ہندوستانی فوج کے مابین چومر گاؤں میں تعطل پیدا ہوگیا ہے۔ یہ ہماچل پردیش اور لیہہ سے شمال مشرقی سمت تقریباً 300 کیلو میٹر دور واقع ہے۔ دلائی لاما نے کہاکہ تبت کا مسئلہ بھی ہندوستان کا مسئلہ ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ ژی جن پنگ زیادہ حقیقت پسند اور کھلا ذہن رکھنے والے ہیں اور اُنھیں ہندوستان میں مختلف مذاہب کے مابین ہم آہنگی سے سبق حاصل کرنا چاہئے۔ دلائی لاما نے کہاکہ درحقیقت تبت کا مسئلہ بھی ہندوستان کا مسئلہ ہی ہے۔ 1950 ء سے پہلے تمام شمالی سرحد پرامن تھی وہاں کوئی سپاہی نہیں تھا چنانچہ اب جو مسئلہ ہوا ہے وہ ہندوستان کا مسئلہ ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ جلد یا بہ دیر اِس مسئلہ کو حل کرنا ہوگا لیکن یہ طاقت کے ذریعہ نہیں بلکہ بات چیت کے ذریعہ حل کیا جانا چاہئے کیونکہ بات چیت سے ہی ایک دوسرے کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ دلائی لاما نے عراق اور شام میں آئی ایس آئی ایس کے قتل عام کی بھی مذمت کی اور کہاکہ اسلام کو ماننے والوں کی جانب سے بے قصور عوام کی اِس طرح ہلاکت پر اُنھیں حیرت ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ اسلام کی تعلیمات پر عمل کرنے والا حقیقی مسلمان کبھی خون ریزی میں ملوث نہیں ہوسکتا۔ جہاد کا مطلب دوسروں کو نقصان پہنچانا نہیں بلکہ یہ خود اپنے اندر پائے جانے والے منفی احساسات کو ختم کرنے کا نام ہے۔ حیرت اِس بات پر ہے کہ اللہ پر یقین رکھنے والے عراق میں مسلمانوں کا بے رحمی سے قتل کررہے ہیں۔ دلائی لاما نے کہاکہ ایک مسلمان اللہ کی تمام مخلوق سے محبت رکھتا ہے اور سچا مسلم کسی دوسرے انسان کے ساتھ نرمی اور رحم کا برتاؤ کرتا ہے۔