نئی دہلی20 جون (سیاست ڈاٹ کام )بی جے پی نے آج حکومت کی جانب سے ہندی کو فروغ دینے کے اقدام کی مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ وہ قوم کو متحد کرنا چاہتی ہے اس اقدام کو انگریزی کی توہین نہ سمجھا جائے۔ نائب صدر بی جے پی مختار عباس نقوی نے کہا کہ ہندی قومی زبان اور ملک کا قلب ہے۔ ہندی کو ترجیح انگریزی کی توہین نہیں قرار دی جاسکتی ۔ حکومت کا ہندی اور علاقائی زبانوں کو ترجیح دینا ایک لائق خیر مقدم کام ہے ۔انہو ںنے کہا کہ ہندی مختلف علاقائی زبانوں جیسے ٹامل ،تلگو ،ملیالم ،گجراتی ،بنگالی ،آسامی ،اردو اور دیگر علاقائی زبانوں کا آمیزہ ہے ۔ یہ بدبختانہ بات ہے کہ مہاتما گاندھی ،جواہر لعل نہرو ،دین دیال اپادھیائے اور رام منوہر لوہیا جیسے اعلی قائدین کی ہندی کو فروغ دینے کی کوشش جس کا مقصد ملک کے مختلف علاقوں میں عوام کو مربوط کرنا تھا۔ سابق حکومتوں نے ہندی کو فروغ دینے کی زیادہ کوشش نہیں کی ۔ اس بار حکومت دیانتداری سے ہندی کو فروغ دینے کی ہر ممکن کوشش کررہی ہے ۔ انہو ںنے کہا کہ ہندی اور انگریزی میں کوئی تصادم نہیں ہے اگر کوئی ہندی کی مخالفت کرتا ہے تو یہ کوئی اچھی بات نہیں ہے ۔ ہندی اور علاقائی زبانوں کو ماضی میں ان کا مستحقہ مقام حاصل نہیںہوا ۔ مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے تنازعہ کی اہمیت کم کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کہ مرکز ملک کی تمام زبانوں کو فروغ دے گا ۔