ہندوستان کا آج افغانستان سے وارم اپ مقابلہ

اڈیلیڈ ۔ 9 ۔ فروری (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستانی کرکٹ ٹیم آئی سی سی ورلڈکپ 2015 ء کے دوسرے وارم اپ مقابلہ میں کل یہاں افغانستان کا سامنا کرے گی اور ونڈے کی دفاعی چمپین مہیندر سنگھ دھونی کی زیر قیادت ہندوستانی ٹیم آسٹریلیا کے اس رواں دورہ پر نسبتاً کمزور افغانستان کے خلاف پہلی کامیابی کیلئے کوشاں ہے۔ ہندوستانی ٹیم نومبر 2014 ء سے آسٹریلیائی دورہ پر موجود ہے لیکن وہ ہنوز پہلی کامیابی کے تعاقب میں ہے اور اس میں شک نہیں کہ ورلڈکپ کے آغاز سے قبل ہندوستان کیلئے یہ بہترین موقع ہے کہ وہ افغانستان کے خلاف کامیابی حاصل کرلیں۔ دوسری جانب افغانستان جو کہ بین الاقوامی سطح پر اپنے متاثرکن مظاہرہ سے سب کی توجہ اپنی جانب مبذول کرواچکی ہے، تاہم اس کا یہ پہلا ونڈے ورلڈکپ ہے جس کیلئے وہ بہتر مظاہرہ کیلئے کوشاں ہے۔ افغانستانی ٹیم مختصر طرز کی کرکٹ میں ایک باصلاحیت ٹیم کے طور پر ابھر رہی ہے اور وہ ورلڈکپ میں کسی بھی ٹیم کو شکست دیکر حیران کن نتائج دینے کی قابل بھی ہے۔ ہندوستانی ٹیم 15 فروری کو پاکستان کے خلاف کھیلے جانے والے ورلڈکپ کے افتتاحی مقابلہ سے قبل اپنے تمام مسائل کو افغانستان کے خلاف کل کھیلے جانے والے مقابلہ میں حل کرنے کی کوشاں ہوگی۔ روہت شرما جنہوں نے سہ رخی سیریز میں سنچری اسکور کی ہیں اور شکھر دھون نے گزشتہ روز آسٹریلیا کے خلاف کھیلے گئے وارم اپ مقابلہ میں نصف سنچری اسکور کی ہے لہذا اوپنرس کی اس جوڑی سے ٹیم انتظامیہ کو ایک بہتر شروعات کی امید ہے ۔ علاوہ ازیں اجنکیا راہنے آسٹریلیا کے دورہ پر بہتر مظاہرے کر رہے ہیں اور وہ اس وارم اپ مقابلہ میں بہتر مظاہرہ کے ذریعہ اپنے اعتماد کو مزید مستحکم کرنے کے خواہاں ہیں۔ ویراٹ کوہلی جنہوں نے ٹسٹ سیریز میں بہتر مظاہرہ کیا ہے لیکن سہ رخی سیریز کے دوران ان کے مظاہرے غیر معیاری رہے ہیں۔ مڈل آرڈر میں امباٹی رائیڈو نے نصف سنچریاں اسکور کی ہیں اور ان کا فارم ٹیم کیلئے کلیدی ہوگا لیکن سریش رائنا اور کپتان مہیندر سنگھ دھونی کے ناقص مظاہرے ٹیم کیلئے تشویشناک ہیں اور افغانستان کے خلاف وارم اپ مقابلہ ان کیلئے ایک بہترین موقع ہوگا جو رنز اسکور کرتے ہوئے اپنے ردہم میں واپسی کریں۔ دوسری جانب افغانستانی ٹیم جو کہ ورلڈکپ میں بہتر مظاہروں کے ذریعہ بین الاقوامی سطح پر اپنی صلاحیتوں کو منوانے کی خواہاں ہیں، وہ اگر کل ہندوستان کے خلاف وارم اپ مقابلہ میں کامیابی حاصل کرتی ہے تو اصل ٹورنمنٹ سے قبل یہ کامیابی افغانستانی کھلاڑیوں کے اعتماد کو بلندیوں پر پہنچا دے گی۔ علاوہ ازیں اس کامیابی کے ذریعہ وہ اپنے گروپ میں موجود دیگر ٹیموں کو ایک انتباہی پیغام روانہ کرسکتی ہے۔ افغانستانی ٹیم میں عالمی شہرت یافتہ کوئی بیٹسمین موجود نہیں ہے لیکن اس کے باوجود وہ انفرادی طور پر اتنے رنز تو جوڑ سکتے ہیں کہ ٹیم کا مجموعی طور پر اسکور 300 سے زائد ہوجائے اور اس کے ذریعہ بولروں کو اتنی آزادی تو مل جائے گی کہ وہ حریف بیٹسمینوں کے خلاف اپنے تمام تر ہتھیار استعمال کرسکیں۔ افغانستان ٹیم کا بولنگ شعبہ باصلاحیت مانا جارہا ہے جو کہ حریف بیٹسمینوں کو پریشان کرسکتا ہے۔ دونوں ٹیموں کے موجودہ فارم کو دیکھ کر کہا جاسکتا ہے کہ یہ مقابلہ یکطرفہ نہیں ہوگا۔