نئی دہلی۔24مئی ( سیاست ڈاٹ کام ) ہندوستان پر فرد واحد کی حکمرانی نہیں چل سکتی ‘ اگر کوئی ’ون میان شو ‘ کے طور پر حکومت کررہا ہے تو یہ ناممکن ہے ۔ سابق چیف منسٹر جموں و کشمیر عمر عبداللہ نے آج مودی حکومت کی ایک سال کی تکمیل پر تبصرہ کرتے ہوئے اس حکومت پر تنقید کی ۔ عمر عبداللہ نے مودی کی گجرات قیادت کا تذکرہ کیا اور کہا کہ ایک ریاست کو چلانا اور ایک ملک پرحکومت کرنا دو نہایت ہی مختلف چیزیں ہیں ۔ کسی ایک ریاست پر مائیکرو میانج کرنا بہت مشکل ہوتا ہے ‘ خاص کر گجرات جیسی ریاست کو فرد واحد کی حکومت چلانا مشکل ہوتا ہے تو پھر ہندوستان پر اسی طرز کی حکمرانی کرنا بہت ہی مشکل بلکہ ناممکن ہے ۔ ہندوستان جیسے کثیر الوجود ملک میں تو یہ ممکن ہی نہیں ہے‘
ہر ایک فیصلہ باریک بینی سے کرنا ہوتا ہے ۔ وزیراعظم کا دفتر ایسا کرنے سے قاصر ہے ۔ مودی حکومت کی کارکردگی پر انہوں نے کہا کہ وزیراعظم اور ان کے وزراء خود اپنی چلائی گئی مہم کے زخم خوردہ ہیں ۔ ان لوگوں نے عوام میں اسی توقعات کو جنم دیا جہاں وعدوں کی تکمیل بہت مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہوجاتی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ عوام نے مودی حکومت سے کئی توقعات وابستہ کرلی تھیں لیکن اب یہ سب کھوکھلا ہی ظاہر ہورہا ہے ۔ معاشی صورتحال کا معاملہ ہو یا دفاعی شعبہ اور دیگر حکمرانی سے مربوط مسائل ہوں ‘ ہر ایک کام کیلئے ایک درست شخص کا انتخاب ضروری ہوتا ہے ۔
اہم محکموں جیسے ویجلنس کمیشن اور انفارمیشن کمیشن جیسے اداروں کیلئے ایک درست عہدیدار کا ہونا ضروری ہے ۔ یہ درحقیقت ایک حیرت کی بات ہے کہ آخر ایک چیف منسٹر جو خود سے فیصلہ نہیں کرسکتا اسے حالات کا مشاہدہ کرنے میں مشکل پیش آتی ہے ۔عمر عبداللہ نے کانگریس کے لیڈر راہول گاندھی کے تعلق سے کہا کہ وہ یو پی اے حکومت کے دوران خاموش رہنے کو ترجیح دیتے رہے ۔ اگر وہ کچھ کہتے تو ان کے ذہن میں پائی جانے والی بات وزیراعظم یا ان کی والدہ کے لئے تنقید کا باعث ہوتی لیکن اب 56دن کے تعطیلات گذار کر آنے کے بعد راہول گاندھی کا طرز عمل حیرت انگیز طور پر تبدیل ہوگیا ہے ۔ راہول گاندھی جس طرح ہندوستان سے چلے گئے تھے اسی طرح واپس نہیں ہوئے ہیں بلکہ ان میں حیرت انگیز تبدیلی دیکھی جارہی ہے اور وہ مودی حکومت پر جارحانہ حملے کرتے جارہے ہیں یہی ان کی حیرت انگیز تبدیلی ہے ۔
میں نہیں جانتا کہ آخر انہوں نے کیا کیا ہے ۔ مجھے ان سے ملاقات کا موقع نہیں ملا ۔ عمر عبداللہ نے توقع ظاہر کی کہ راہول گاندھی ہندوستان کی موجودہ صورتحال سے فائدہ اٹھاکر آئندہ انتخابات تک خود کو تیار کرلیں گے ۔ سوال یہ ہے کہ لوگوں کے خیالات کی نفی کس طرح کی جائے ‘ مجھے یقین ہے کہ راہول گاندھی ان لوگوں کو غلط ثابت کریں گے جو ان میں صلاحیتوں کے فقدان کا حوالہ دے کر تنقید کرتے ہیں جہاں تک میں انہیں جانتا ہوں انہوں نے اپنا ذہن تیار کرلیا ہے اس لئے وہ آئندہ عام انتخابات تک خود کو نمایاں کرنے میں کامیاب ہوں گے ۔ نریندر مودی حکومت کے ایک سال کی تکمیل کوئی بڑا کارنام نہیں ہے کیونکہ اس ایک سال کے دوران انفارمیشن کمشنرس کا تقرر عمل میں نہیں لایا گیا ۔ اب تک ہم کو صرف ایک فرد کا الیکشن کمیشن دیا گیا ہے ۔ دیگر تنظیموں کا خیال رکھنا ضروری ہے ۔ ایک سال کا وقت یہ سمجھنے کیلئے کافی ہوتاہے کہ حکومت کس طرح کی جائے ۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ مودی حکومت میں اس ایک سال کے دوران کارکردگی کے بجائے تشہیر پر توجہ دی ۔