ہندوستان سے بچپن کی شادیوں کے خاتمہ کیلئے 50 برس درکار

کولکتہ۔ 26 اگست (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستان میں گزشتہ دو دہوں کے دوران بچپن کی شادیوں میں ایک فیصد کمی دیکھی گئی ہے لیکن جس سست رفتار سے بچپن کی شادیوں میں کمی کا رجحان پایا جارہا ہے، اس سے ملک کو کم عمری کی شادیوں سے مکمل چھٹکارہ حاصل کرنے کیلئے 50 برس کا عرصہ درکار ہے۔ یونیسیف اپنے تازہ ترین سروے میں ہندوستان کے متعلق بچپن کی شادیوں کی تفصیلی رپورٹ جاری کی ہے۔ ہندوستان میں بچوں کے تحفظ کے ماہر یونیسیف کی خاتون عہدیدار دورا گوسٹی نے خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان میں گزشتہ دو دہوں کے دوران بچپن کی شادیوں میں ایک فیصد کی کمی ضرور آئی ہے لیکن یہ رفتار اتنی دھیمی ہے کہ ملک کو بچپن کی شادیوں کے مسئلہ سے چھٹکارہ حاصل کرنے کیلئے 50 برس یا اس سے زیادہ کا عرصہ درکار ہے۔ موجودہ حالات یہ انتباہ دے رہے ہیں کہ اس دوران کئی ملین لڑکیاں کم عمری کی شادی کی بھینٹ چڑھ جائیں گی۔ دورا نے یونیسیف کی تفصیلی رپورٹ پر روشنی ڈالتے ہوئے یہ بھی کہا کہ سروے کے دوران 20 تا 24 سالہ شادی شدہ خواتین سے تفصیلات حاصل کی گئیں جس میں 43 فیصد خواتین نے کہا کہ ان کی شادیاں 18 برس سے کم عمر میں ہی کردی گئی تھیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ بہت سی لڑکیوں کی شادیاں کم عمر ہی میں کردی جاتی ہیں۔ حسن اتفاق سے جولائی میں اقوام متحدہ کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں بچپن کی شادیوں کے متعلق ممالک کی درجہ بندی میں ہندوستان کو چھٹا مقام دیا گیا تھا جس کا مطلب ہندوستان میں ہر تین شادیوں میں ایک شادی ایسی لڑکی کی ہوتی ہے جو کمسن ہوتی ہیں۔ دریں اثناء ہندوستان میں چند طبقات اور مذاہب ایسے ہیں جن میں کمسن لڑکیوں کی شادیوں کا رواج ہنوز جاری ہے جس کی اہم وجوہات میں توہم پرستی کلیدی رول ادا کررہی ہے۔

یونیسیف کے عہدیداروں نے کہا کہ ہندوستان میں بچپن کی شادیوں کو سماج میں قبول کیا جاتا ہے جبکہ لڑکیوں کو بوجھ بھی تصور کیا جاتا ہے اور ان کی شادیوں کو ایک مہنگا سودا مانا جاتا ہے۔ دورا گوسٹی نے مزید کہا کہ بسااوقات سماج میں ایک اہم تبدیلی کو آسانی سے قبول نہیں کیا جاتا جبکہ غربت کی وجہ سے بھی شادیاں مشکل ترین ہورہی ہیں اور تعلیمی فقدان کے سبب ہندوستان میں بچپن کی شادیوں کا رواج ہے۔ یونیسیف کی خاتون عہدیدار سے جب استفسار کیا گیا کہ ہندوستان کی حکومت کی جانب سے لڑکیوں کی تعلیم اور اسکولی اخراجات کیلئے جو مالی تعاون کی اسکیم متعارف کی گئی ہے، اس کا کیا نتیجہ برآمد ہوا ہے تو انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے لڑکیوں کی تعلیم کے لئے نقد رقومات ان کے بینک اکاؤنٹ میں فراہم کئے جانے کی اسکیم سے فائدہ ہوا ہے کیونکہ اس اسکیم کے متعارف کئے جانے کے بعد لڑکیوں کی شادی میں عوام قدرے تاخیر کررہے ہیں، لیکن اس اسکیم کے طویل عرصہ تک بہتر نتائج کی اُمید نہیں کی جاسکتی۔ یونیسیف کے عہدیداروں کے بموجب ہندوستان سے بچپن کی شادیوں کے مکمل خاتمہ کیلئے سیاسی طور پر موثر حکمت عملی اختیار کی جانی چاہئے ۔سیاسی طریقہ کار کے ذریعہ ہی ہندوستان سے بچپن کی شادیوں کا خاتمہ ممکن ہے۔