ہندوستانی ٹیم ورلڈ کپ کی مضبوط دعویدار نہیں : فلیمنگ

نئی دہلی ۔ 21 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) عالمی چمپیئن ہندوستانی ٹیم آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں منعقد شدنی 2015ء ورلڈ کپ کیلئے مضبوط دعویداروں میں شامل نہیں۔ ان خیالات کا اظہار نیوزی لینڈ کے سابق کپتان اور آئی پی ایل میں چینائی سوپرکنگس کے کوچ اسٹیفن فلیمنگ نے کیا ہے۔ فلیمنگ کے تجزیوں کے مطابق ہندوستانی ٹیم جس نے 2011ء میں ورلڈ کپ اپنے نام کیا ہے، جس کی اہم وجہ اس کے گھریلو میدانوں میں مقابلے منعقد ہونے ہیں جبکہ اب آسٹریلیا و نیوزی لینڈ میں مشترکہ طور پر کھیلے جانے والے ورلڈ کپ میں ہندوستانی ٹیم کو خطاب کا دفاع کرنا آسان نہیں ہوگا۔ فلیمنگ نے کہا کہ ورلڈکپ کیلئے خطاب کی 4 سرفہرست ٹیموں کے متعلق کہا جائے تو آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کو اس لئے سبقت حاصل رہے گی کیونکہ ورلڈکپ ان کے گھریلو میدانوں میں کھیلا جارہا ہے جبکہ تیسرے مقام پر جنوبی افریقہ کو مضبوط ٹیم قرار دیا جاسکتا ہے کیونکہ وہ فی الحال بہتر فام میں ہے۔

چوتھے مقام کیلئے دیگر ٹیموں کے درمیان سخت مسابقت ہے کیونکہ یہ مقام ہندوستان، پاکستان، ویسٹ انڈیز اور سری لنکا کو دیا جاسکتا ہے۔ یہاں منعقدہ ایک تقریب میں اظہارخیال کرتے ہوئے مہندر سنگھ دھونی کی زیرقیادت چینائی سوپر کنگس کی گذشتہ آئی پی ایل کے 6 ایڈیشنس میں کوچنگ کررہے 41 سالہ فلیمنگ نے کہا کہ یکسانیت کی وجہ سے آئندہ ورلڈ کپ میں آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کو گھریلو میدانوں کا فائدہ ہوگا جیسا کہ 2011ء کا خطابی مقابلہ سری لنکا اور ہندوستان کے درمیان کھیلا گیا تھا جو کہ انتہائی قریبی فائنل ثابت ہوا تھا۔ ہندوستان جس نے 2011ء میں ورلڈکپ اپنی وکٹوں پر حاصل کیا تھا لیکن آسٹریلیا و نیوزی لینڈ میں اس کیلئے حالات مختلف ہوں گے۔ نیز ہندوستانی ٹیم کیلئے خطابی راہ ہموار کرنے کیلئے اس کے فاسٹ بولروں کو بہتر مظاہرہ کرنا ہوگا۔ فلیمنگ نے مزید کہا کہ برصغیر میں کامیابی کیلئے اختیار کی جانے والی حکمت عملی کا آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں فائدہ نہیں ہوگا کیونکہ ٹیم کی کامیابی میں فاسٹ بولروں کا اہم کردار ہوگا کیونکہ انہیں وقفہ وقفہ سے وکٹیں حاصل کرنی ہوگی۔

فلیمنگ کے بموجب 30 گز کے دائرہ کے باہر 4 فیلڈروں کو تعینات کرنے کے قاعدہ کی وجہ سے ونڈے کرکٹ میں بہت سی تبدیلی آچکی ہیں اور اس کا بھی کھیل پر کافی اثر ہوگا۔ فلیمنگ کے بموجب ہندوستانی بولروں میں صلاحیت موجود ہے لیکن فاسٹ بولروں کے ہمراہ اسپنرس کو بھی وقفہ وقفہ سے وکٹیں حاصل کرنی ہوں گی لیکن اس معاملہ میں ورلڈ چمپیئن کی کسی قدر کمزور دکھائی دیتی ہے۔ فلیمنگ فی الحال آئی پی ایل کے ایک مستقل کوچ بن چکے ہیں

لیکن جب انہیں فرصت کے اوقات دستیاب ہوتے ہیں تو وہ نیوزی لینڈ کے کپتان برنڈن مکالم کے ساتھ تبادلہ خیال کرتے ہیں کیونکہ برنڈن مکالم بھی اب چینائی سوپر کنگس کے کھلاڑی ہی ہیں۔ اس ضمن میں اظہارخیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ ایک عرصہ سے چینائی سوپر کنگس کے ساتھ وابستہ ہیں اور جب کبھی انہیں وقت ملتا ہے تو وہ اپنے افرادخاندان اور تجارت پر توجہ مرکوز کرتے ہیں لیکن ان تمام ذمہ داریوں کو نبھانے کیلئے اوقات کو فارغ کرنے میں انہیں کافی لطف آتا ہے۔ نیوزی لینڈ کے ایک کامیاب ترین کپتان رہ چکے فلیمنگ نے کہا ہیکہ انہیں بین الاقوامی معاہدوں کی پیشکش حاصل ہورہی ہیں لیکن وہ فی الحال چینائی سوپرکنگس کے ساتھ ہی رہنا چاہتے ہیں۔