ہندوستانی ٹیم نیوزی لینڈ کیلئے روانہ ،ونڈے و ٹسٹ سیریز میں شرکت

منتخبہ کھلاڑیوں کی رانجی میںعدم شمولیت پر دھونی کا دفاع ،کھلاڑیوں کو تروتازہ رکھنا زیادہ اہم
ممبئی12 جنوری (سیاست ڈاٹ کام )مہندر سنگھ دھونی کی قیادت میں ہندوستانی ٹیم پانچ میچوں کی ونڈے سیریز کے لئے اتوار کو یہاں سے نیوزی لینڈ کے لئے روانہ ہو گئی۔ ونڈے کے بعد دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز بھی کھیلی جائے گی ۔ونڈے میچوں کا آغاز 19 جنوری سے نیپئر میں ہوگا اور اس کا اختتام 31 جنوری کو ویلنگٹن میں ہوگا۔ سیریز کے باقی میچ ہیملٹن ( 22 اور 28 جنوری ) اور آکلینڈ ( 25 جنوری ) میں کھیلے جائیں گے ۔ونڈے سیریز کے بعد ٹیسٹ سیریز کھیلی جائے گی جس کا پہلا میچ آکلینڈ میں چھ سے 10 فروری تک ہوگا۔ دوسرا اور آخری میچ 14 سے 18 فروری تک ویلنگٹن میں کھیلا جائے گا ۔ ہندوستانی ٹیم ٹیسٹ سیریز سے پہلے دو اور تین فروری کو واگیرے میں دو روزہ پریکٹس میچ میں بھی حصہ لے گی . ٹیسٹ ماہر کھلاڑی چتیشور پجارا ، ظہیر خان ، مرلی وجے اور امی یادو آج ٹیم کے ساتھ روانہ نہیں ہوئے اور ان کے ایک ہفتے بعد جانے کا پروگرام ہے ۔

ہندوستانی ٹیم دو طرفہ سیریز کے لئے کل نویں بار اور 2008-09کے بعد پہلی بار نیوزی لینڈ کا دورہ کر رہی ہے ۔دریں اثناء ہندوستانی ٹیم کے کپتان مہندر سنگھ دھونی نے نیوزی لینڈ کے دورے کے لئے منتخب کھلاڑیوں کو رنجی ٹرافی کوارٹر فائنل میں نہیں اتارنے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے کھلاڑیوں کو ذہنی اور جسمانی طور پر تازہ ہونے کا موقع ملا ہے۔دھونی نے نیوزی لینڈ کے دورے کے لئے روانہ ہونے سے پہلے ممبئی میں ہفتہ کو منعقد ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ کوارٹر فائنل میچوں کا کیا پروگرام تھا ۔ ہم اس امکان کو لے کر نہیں چل سکتے تھے کہ میچ ایک دن پہلے ختم ہو جائیں گے۔ جب ٹیم دورے پر جا رہی ہے تو یہ اہم ہے کہ تمام کھلاڑی ایک ساتھ جائیں ۔قابل ذکر ہے کہ چہارشنبہ سے شروع ہوئے رنجی ٹرافی کے کوارٹر فائنل میں اترپردیش کا مقابلہ کرناٹک سے ، بنگال اور ریلوے سے ، ممبئی اور مہاراشٹر سے اور پنجاب کا جموںو کشمیر سے مقابلہ ہوا ۔ نیوزی لینڈ جانے والی ٹیم میں اتر پردیش کے سریش رائنا اور بھونیشور کمار ، ممبئی کے روہت شرما اور اجنکیا رہانے ، کرناٹک کے اسٹورٹ بننی اور بنگال کے محمد سمیع کا انتخاب ہوا ہے ۔یہ چھ کھلاڑی کوارٹر فائنل میں کھیل سکتے تھے

لیکن ہندوستانی کرکٹ کنٹرول بورڈ ( بی سی سی آئی ) نے اس کی اجازت نہیں دی۔ ان کھلاڑیوں کو باقی ٹیم کے ساتھ 12 جنوری کو نیوزی لینڈ کے دورے پر بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا جو کوارٹر فائنل کا آخری دن تھا ۔ہندوستان کو پہلا ون ڈے 19 جنوری کو نیپئر میں کھیلنا ہے ۔چار میں سے تین کوارٹر فائنل چوتھے ہی دن یعنی ہفتہ کو ختم ہو گئے۔ ان میں اتر پردیش کے رائنا اور بھونیشور کے نہیں کھیلنے کا بہت نقصان اٹھانا پڑا اور ٹیم کرناٹک کے خلاف کوارٹر فائنل ہار گئی۔اسی طرح 40 بار کی چمپئن ممبئی کو بھی رہانے اور روہت کی کمی محسوس ہوگی اور ٹیم کو مہاراشٹر کے خلاف اپنے گھریلو میدان پر8 وکٹ سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ سابق تیز گیند باز اور اتر پردیش کی رنجی ٹیم کے کوچ وینکٹیش پرساد اور ٹیم انڈیا کے سابق کپتان راہول دراویڈ نے نیوزی لینڈ کے دورے کے لئے منتخب کھلاڑیوں کو رنجی کوارٹر فائنل میں کھیلانے کی وکالت کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں ایک دو دن بعد بھیجا جا سکتا تھا لیکن دھونی نے کہا کہ ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کے گزشتہ دورے اور آئندہ دورے کے درمیان کھلاڑیوں کو صرف دس دن کا آرام ملا ۔ ٹیم کے مصروف ترین پروگرام کو دیکھتے ہوئے یہ وقفہ ضروری تھا ۔ یہ ذہنی طور پر تازہ رکھتا ہے اور جسمانی تھکاوٹ سے آپ ابھر کر سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کھلاڑیوں کو وقفہ دینے کا فیصلہ اچھا تھا تاکہ وہ نیوزی لینڈ کے دورے کے لئے خود کو تازہ رکھ سکیں ۔ ٹیم میں کئی ایسے کھلاڑی ہیں جو کئی ریاستوں کے لئے کھیلتے ہیں اور اگر وہ رنجی کوارٹر فائنل کھیلتے تو انہیں آج بھی کھیلنا پڑتا۔غیر ملکی زمین پر ٹیم انڈیا کے حالیہ کارکردگی کے بارے میں دھونی نے کہا کہ ہم جنوبی افریقہ میں سیریز ہار گئے تھے اور اس سے پہلے انگلینڈ اور آسٹریلیا میں ہمارا مظاہرہ اچھا نہیں رہا تھا . لیکن اسے چھوڑ دیا جائے تو ویسٹ انڈیز ، نیوزی لینڈ اور جنوبی افریقہ میں ہمارا اچھا مظاہرہ رہا ہے ۔نیوزی لینڈ کے دورے کے بارے میںہندوستان کپتان نے کہا کہ ٹیم میں اب تبدیلی کا دور مکمل ہو چکا ہے اور استحکام آ گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی افریقہ کے دورے میں یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ ٹیم میں ایسے کھلاڑی ہیں جو کسی بھی صورت میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر سکتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ نیوزی لینڈ کے دورے پر بھی اچھال سے نمٹنا بیٹسمینوں کے لئے سب سے بڑا چیلنج ہوگا ۔دھونی نے کہا کہ اچھی بات یہ ہے کہ گزشتہ دورے کے لئے پہلے ٹیم میں کچھ تبدیلی کی گئی لیکن نئے کھلاڑیوں کو بیرون ملک جانے سے پہلے گھریلو زمین پر خود کو تراشنے کا کافی موقع مل گیا تھا ۔ ان میں سے کچھ کھلاڑیوں نے ہندوستانی سرزمین پر کچھ ٹیسٹ کھیلے تھے اور اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا۔کپتان دھونی نے کہا کہ بہت سے لوگ قیاس آرائی لگا رہے تھے کہ جنوبی افریقہ کے دورے پر یہ کھلاڑی کیسا مظاہرہ کریں گے . اب ہمیں پتہ ہے کہ ہمارے پاس ایسے کھلاڑی ہیں جو کہیں بھی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر سکتے ہیں اور یہ ایک مثبت علامت ہے ۔