ہندوستانی ورکر کو ہاتھ پیر کٹنے کے بعد خطیر رقمی ہرجانہ

دوبئی ۔23 جون ۔(سیاست ڈاٹ کام) ایک ہندوستانی تارک وطن جسے متحدہ عرب امارات میں اپنی ملازمت کے دوران کام کرتے ہوئے کچھ انفکشن ہوگیا تھا جو اتنا بڑھ گیا کہ اُس کے دونوں پیر اور دونوں ہاتھ کاٹنے پڑے ، اُس شخص کو اُس کے آجر کی جانب سے ہرجانہ کے طورپر 202,000 درہم ( 54,994 ڈالرس) ادا کئے گئے جس کے لئے ابوظہبی میں واقع ہندوستانی سفارت خانے کی جانب سے بھی کافی کوششیں کی گئی تھیں۔ پنجاب سے تعلق رکھنے والے گروبندر سنگھ ابوظہبی کی ایک خانگی کمپنی میں بطور کرین آپریٹر ملازمت کیا کرتا تھا ۔ ایک بار کام کے دوران اُس کاگُھٹنا زخمی ہوگیا تھا جس پر اُس نے کوئی خاص توجہ نہیں دی اور بالآخر اُس میں ایسا انفکشن ہوا کہ نہ صرف اُس کے دونوں پیر بلکہ دونوں ہاتھ بھی کاٹ دینے پڑے ۔ خلیج ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ہاسپٹل سے ڈسچارج ہونے سے قبل ہی اُسے 5750 درہم کی ادائیگی کی ہدایت دیتے ہوئے کمپنی نے ملازمت سے برخاست کردیا تھا ۔ جب اس بات کی اطلاع ہندوستانی سفارت خانے کو ہوئی تو سفارت خانہ کی جانب سے گروبندر سنگھ کے آجر سے بات چیت کی گئی اور سفارت خانہ کے عہدیداروں کی جانب سے کئی ملاقاتوں کے بعد بالآخر کمپنی کو اس بات پر راضی کرلیا گیا کہ وہ گروبندر کو بطور ہرحانہ 202,000 درہم ادا کرے ۔ ہرجانے کی رقم میں گروبندر کی جانب سے مصنوعی پیر اور ہاتھ خریدنے کے اخراجات بھی شامل ہیں۔