ظفر آغا
اس میں کوئی شک نہیں کہ پچھلے آٹھ دس برسوں میں ہندوستانی نظام نے دہشت گردی کا ہتھیار بے قصور مسلم نوجوانوں کے خلاف استعمال کیا۔ کبھی انڈین مجاہدین کے نام پر تو کبھی کسی دیگر دہشت گرد تنظیم کی آڑ میں درجنوں مسلم نوجوان دہشت گردی کے الزام میں گرفتار کئے گئے، جب کہ زیادہ تر ایسے افراد کو عدالتوں نے بے گناہ قرار دے کر رہا کردیا، اس کے باوجود دہشت گردی کی تلوار پورے ہندوستانی مسلمانوں کے سرپر لٹکتی رہی اور آج بھی لٹک رہی ہے۔ ظاہر ہے کہ ملک کے فرقہ پرست عناصر اس تلوار سے ہندوستانی مسلمانوں کی گردن قلم کرنے کے لئے ہر وقت تیار رہتے ہیں۔
لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ’’مسلم دہشت گردی‘‘ نام کی کوئی شے نہیں ہے۔ ’’اسلامی جہاد‘‘ ایسی تلخ حقیقت ہے، جس سے کوئی ذی ہوش اور باحواس شخص انکار نہیں کرسکتا۔ القاعدہ اور طالبان کے علاوہ درجنوں پاکستانی دہشت گرد تنظیمیں اور پھر اب داعش جیسی خود کو جہادی خلافت کا لقب دینے والی خطرناک تنظیم ’’اسلامی جہاد‘‘ کا منہ بولتا ثبوت ہیں، جن سے اب ساری دنیا واقف ہے۔ ان تنظیموں کا اصل بانی کون ہے؟ اس بات پر بحث جاری ہے۔ یہ تنظیمیں مسلم مفاد میں کام کر رہی ہیں یا مسلمانوں کو نقصان پہنچا رہی ہیں؟ اس بات پر بھی عالم اسلام میں بحث جاری ہے۔ لیکن اس بات پر اتفاق ہے کہ عالم اسلام میں ’’جہاد‘‘ کے نام پر دہشت گرد تنظیمیں جنم لے رہی ہیں، جو کہنے کو تو مغرب مخالف تنظیمیں ہیں، لیکن یہ تمام تنظیمیں بنیادی طورپر نہ صرف مسلم مخالف بلکہ اسلام مخالف ثابت ہو رہی ہیں۔ ان تنظیموں کے تعلق سے ایک اور بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا، وہ یہ کہ عالمی سطح پر ان تنظیموں کی اپیل مسلم نوجوانوں میں پائی جاتی ہے، سب سے غضبناک اور خطرناک بات جو ہم ہندوستانی مسلمانوں کے تعلق سے یہ ہے کہ داعش جیسی خطرناک دہشت گرد تنظیم کے سائے اب ہندوستانی مسلم نوجوانوں تک پہنچ چکے ہیں۔یہ ایک تلخ حقیقت ہے اور اس بات سے اب انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ممبئی کے کلیان علاقہ سے جو چار مسلم نوجوان عراق ’’جہاد‘‘ کے لئے گئے تھے، ان کے والدین نے اس بات کی اطلاع پولیس میں درج کرادی۔ پھر ابھی ٹائمز آف انڈیا اور دیگر اخبارات نے یہ خبر شائع کی کہ حیدرآباد کے چار نوجوان داعش سے متاثر ہوکر عراق جانے والے تھے، لیکن ان کے والدین نے ان بچوں کو کسی طرح سمجھا بجھاکر عراق جانے سے روک دیا۔ اس کے علاوہ کچھ ’’جہادی‘‘ تنظیمیں ہندوستانی مسلم نوجوانوں پر نگاہیں جمائی ہوئی ہیں۔ اب یہ بھی خبریں مل رہی ہیں کہ القاعدہ اب ہندوستان اور اس کے آس پاس اپنا برانچ کھولنے کا اعلان کرچکی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر ہندوستانی مسلم نوجوانوں کو داعش اور القاعدہ جیسی دہشت گرد تنظیموں سے کیوں دلچسپی پیدا ہوئی؟۔
پہلے تو اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ داعش اور القاعدہ کی ہندوستانی مسلمانوں پر کوئی ایسی گرفت نہیں ہے کہ جس کو خطرناک کہا جائے۔ خال خال دو چار نوجوانوں کے نام آئے ہیں، اس لئے یہ بات قابل فکر ضرور ہے۔ اس مسئلہ میں فکر اس بات کی زیادہ ہے کہ دو چار ناموں کا استعمال کرکے فرقہ پرست عناصر اس خطرے کو پوری ہندوستانی مسلم برادری کے خلاف کبھی بھی استعمال کرسکتے ہیں، لہذا اس خطرے کو جلد سے جلد کچل دینا لازمی ہے۔ اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ہندوستانی مسلمان غم و غصہ کا شکار ہیں۔ پچھلے چند برسوں سے مسلمانوں کے خلاف زیادتیاں بڑھتی جا رہی ہیں۔ مظفر نگر کے فساد میں مسلم خواتین کی آبرو ریزی جیسے واقعات رونما ہوئے ہیں، جن کے سبب مسلمانوں میں غم و غصہ پیدا ہوا ہے۔ پھر ان مسائل کا کوئی حل نہ ہونے کی وجہ سے نوجوانوں میں مایوسی بھی پیدا ہوئی ہے، لہذا اس ذہنی کیفیت کا فائدہ اٹھاکر دہشت گرد جہادی تنظیمیں نوجوانوں کو اپنی جانب راغب کر رہی ہیں۔ پھر جہاد کے نام پر جنت اور حوروں کا وعدہ کرکے یہ تنظیمیں نوجوانوں میں کامیاب آخرت کی ایک عجیب و غریب لالچ پیدا کردیتی ہیں اور اس طرح نوجوان جنت اور حوروں کی لالچ میں گرفتار ہوکر دہشت گردی کو اصل اسلام سمجھ کر داعش جیسی تنظیموں کے چنگل میں پھنس جاتے ہیں۔
اب اس بات سے قطعاً منہ نہیں موڑا جاسکتا کہ یہ نام نہاد جہاد دراصل اسرائیل جیسے ملک کو فائدہ پہنچا رہا ہے۔ ابھی جب اسرائیل نے غزہ میں فلسطینیوں پر حملہ کیا تو ساری دنیا نے فلسطین کی کوئی مدد نہیں کی، کیونکہ دنیا میں عموماً مسلمانوں کے تعلق سے یہ خیال پیدا ہوچکا ہے کہ مسلمان تو دہشت گرد ہوتے ہیں، اس لئے اگر یہ مر رہے ہیں تو ٹھیک ہی ہے۔ اس طرح داعش کی حرکتوں سے اگر کسی کو فائدہ ہوا تو وہ اسرائیل کو ہوا۔ لب لباب یہ کہ القاعدہ اور داعش جیسی جہادی تنظیموں نے اگر کسی کو سب سے زیادہ فائدہ پہنچایا ہے تو وہ مغرب اور اسرائیل ہے۔ مثلاً القاعدہ کے امریکہ پر حملہ کے بعد مغربی میڈیا نے دنیا بھر میں غیر مسلم اقوام میں یہ تاثر پیدا کیا کہ ’’اسلام ایک دہشت پسند مذہب ہے‘‘ (نعوذ باللہ!) اور مسلمان عموماً دہشت گرد ہوتے ہیں۔ چنانچہ اس کے بعد ہی امریکہ کی فوج افغانستان اور عراق پہنچ گئی، جہاں اب تک لاکھوں مسلمان موت کے گھاٹ اتارے جاچکے ہیں۔ یعنی القاعدہ نے مسلمانوں کو بدنام کیا اور مغرب کو افغانستان و عراق پر قبضہ جمانے کا بہانہ مل گیا۔ اسی طرح داعش نے عراق اور شام کو کمزور کرکے اسرائیل کو اس خطہ میں مزید مضبوط کردیا۔ خدا نخواستہ اگر داعش اور القاعدہ جیسی تنظیموں میں صرف درجن بھر ہندوستانی مسلم نوجوان پہنچ گئے تو ہندوستان کے مسلم دشمن عناصر کو یہ موقع مل جائے گا کہ وہ جہاد کا حربہ مسلمانوں کے خلاف استعمال کریں، کیونکہ جہاد کے نام پر ہندو سماج میں بہت جلد خوف پیدا کیا جاسکتا ہے۔ پھر اسی خوف کو ہندوؤں میں مسلم منافرت اور مسلم دشمنی میں تبدیل کردیا جائے گا اور اس کی آڑ میں فرقہ پرست عناصر مسلمانوں پر کوئی بھی ظلم روا رکھیں گے اور پھر سب مل کر تالی بجائیں گے۔
راقم السطور کی ادنی رائے یہ ہے کہ جہاد اور جہادی تنظیمیں ہندوستانی مسلمانوں کے لئے سنگین خطرہ ہیں اور اس خطرے سے جلد از جلد نمٹنے کی سخت ضرورت ہے، کیونکہ مسلمانوں میں کوئی ایسی تنظیم نہیں ہے، جو بہت کار کرد ہو، لہذا یہ کام سب سے بہتر انداز میں علماء کرام ہی انجام دے سکتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ علماء اپنے خطبوں اور بالخصوص جمعہ کے خطاب میں لوگوں کو یہ سمجھائیں کہ جس جہاد کا شور مچایا جا رہا ہے، وہ دراصل جہاد نہیں بلکہ مسلم دشمنی ہے۔ علاوہ ازیں اردو اخبارات کے مدیران اپنے اداریوں اور دیگر تحریروں کے ذریعہ اپنے قارئین کو جہاد اور دہشت گردی کے خطرات سے آگاہ کریں۔ نوجوانوں میں یہ سوجھ بوجھ پیدا کریں یہ اصل جہاد نہیں ہے، بلکہ مسلمانوں کو بدنام کرنے کا مغرب کا ایک حربہ ہے، جس سے ہم سب کو ہوشیار رہنا چاہئے۔ اس بات کو منبر کے علاوہ جلسوں کے ذریعہ بھی عام کرنا چاہئے، تاکہ ہمارے مسلم نوجوان محفوظ رہیں اور وہ کسی کے بہکاوے میں نہ آئیں، ورنہ ہم مسلمانوں کے لئے یہ مسئلہ غضبناک ہوجائے گا۔