ممتابنرجی نے بچپن سے گھر کی ذمہ داری سنبھالتے ہوئے کامیاب سیاسی سفر طئے کیا
نریندر مودی چائے فروخت کرتے تھے، ان کی ماں دوسروں کے گھر میں برتن دھویا کرتیں
اروند کجریوال کا متوسط گھرانے سے تعلق، کرپشن کے خلاف لڑائی شروع کی اور دہلی میں اقتدار پر فائز ہوئے
نئی دہلی ۔ 11 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستان کی سیاست میں عام آدمی کا غیرمعمولی عمل دخل رہا ہے۔ یہی نہیں بلکہ کئی عام افراد نے معمولی سطح پر اپنی زندگی کی شروعات کی لیکن وہ سیاسی شعبہ میں ترقی کے منازل طئے کرتے گئے اور ایک نئی تاریخ بنائی۔ حالیہ دور میں چیف منسٹر مغربی بنگال ممتابنرجی، وزیراعظم نریندر مودی اور نئے چیف منسٹر دہلی اروند کجریوال کا نام لیا جاسکتا ہے۔ ان تینوں کی مختلف پس منظر، سماجی روابط اور تعلیمی قابلیت ہے۔ یہ تینوں ایک دوسرے کے متضاد ہیں لیکن ان میں ایک چیز مشترک ہے۔ تینوں عوامی سیاستداں ہیں اور بنیادی سطح سے اوپر آئے ہیں۔ ممتابنرجی پر گھر کی ذمہ داریاں تھیں۔ ان کے والد کی وفات کے بعد والدہ نے 12 بیگھا زمین واقع رامپور ہاٹ جو ان کی ملکیت تھی، فروخت کردی تھی اور یہ رقم اپنے سب سے بڑے بیٹے اجیت کے حوالہ کردی تھی تاکہ کاروبار میں سرمایہ کاری کرسکے لیکن دوسری سب سے بڑی اولاد ممتابنرجی نے خاندان کو متحد رکھا۔ وہ 3.30 بجے شب روزانہ جاگ جاتی تھیں تاکہ اپنے چار بھائیوں اور بہن کیلئے جو کالج جاتے تھے، پکوان کرسکیں۔ انہیں یاد ہیکہ وہ اپنے کالج کے ساتھیوں کو مایوسی سے دیکھتی تھیں۔ جب وہ ان کے لباس یا فلموں کے بارے میں جذباتی انداز میں تبادلہ خیال کرتے تھے۔ انہیں ان دنوں پرتعیش اشیاء حاصل نہیں تھی۔ ان کے سفر کا آغاز یہیں سے ہوا۔ پہلا سنگ میل جادھو پور حلقہ سے سینئر کمیونسٹ قائد سومناتھ چٹرجی کو شکست دے کر کامیابی حاصل کرنا تھا۔ بعدازاں انہوں نے کئی ذمہ داریاں مختلف پارٹیوں بشمول این ڈی اے اور کانگریس نبھائیں۔ انہوں نے تن تنہا ترنمول کانگریس قائم کی اور چیف منسٹر بننے کیلئے بائیں بازو کی طاقتوں کے خلاف جدوجہد کی۔
دلچسپ بات یہ ہیکہ انہیں سی پی ایم پر زبردست فتح حاصل ہوئی۔ اس طرح بائیں بازو کا 35 سالہ دور ختم ہوگیا۔ ممتابنرجی کی طرح نریندر مودی بھی ایک انتہائی معمولی پس منظر رکھتے ہیں۔ ان کی والدہ دوسرے لوگوں کے گھروں میں برتن دھو کر خاندان کے اخراجات تکمیل کیا کرتی تھیں۔ خود مودی نے چائے والا کی حیثیت سے کام کیا تاکہ اپنے تعلیمی اخراجات اور این سی سی کی تربیت کے اخراجات کی تکمیل کرسکے۔ بچپن میں مطالعہ کا بہت شوق تھا۔
مذہبی اعتبار سے وہ سوامی ویویکانند سے متاثر تھے جن سے انہیں تحریک ملی کہ ان کے خواب کو حقیقت میں تبدیل کرتے ہوئے انہیں جگت گرو بنادیں۔ 17 سال کی چھوٹی سی عمر میں انہوں نے گھر سے روانہ ہوکر پورے ہندوستان کا سفر کیا جس سے انہیں زندگی کے بارے میں اپنے نظریہ میں زبردست تبدیلی کرنے کا موقع ملا۔ بعدازاں وہ آر ایس ایس کے پرچارک بن گئے تاکہ سماج کا اور اس کے تمدن کا احیا کرسکیں۔ ان کی زندگی سخت محنت سے تحریک حاصل کرکے شروع ہوئی تھی۔ اٹل بہاری واجپائی نے انہیں اپنے زیرسرپرستی لے لیا جس کے بعد انہیں حکمرانی کے گر معلوم ہونے لگے۔ وہ 2001ء میں پہلی بار چیف منسٹر گجرات بنے اور آئندہ 4 میعادوں کیلئے اس عہدہ پر برقرار رہے۔ وہ 2014ء میں وزیراعظم منتخب ہوئے۔
اروند کجریوال کو مکان میں زیادہ جدوجہد نہیں کرنی پڑی کیونکہ وہ اوسط طبقہ کے خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ آئی آئی ٹی کھرک پور سے انہوں نے میکانیکل انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی اور اس کے بعد پیچھے پلٹ کر نہیں دیکھا۔ وہ ایک ذہین طالب علم تھے۔ 1995ء میں آئی آر ایس کیلئے اہل قرار پائے۔ ان کی زندگی کا سفر ٹیکس کے محکمہ کے دفاتر سے شروع ہوا جہاں ان کا کام مسلسل کرپشن سے متاثر ہوتا تھا۔ اس کا مقابلہ کرنے کیلئے انہوں نے منیش سیسوڈیا کے ساتھ ایک تحریک ’’پریورتن‘‘ کی بنیاد 2000ء میں رکھی۔ پریورتن نے ایک درخواست مفاد عامہ داخل کرتے ہوئے محکمہ انکم ٹیکس کی عوامی کارروائیوں میں شفافیت کا مطالبہ کیا۔ انا ہزارے سے ملاقات تک یہ گروپ کئی ایسے معاملات کے خلاف احتجاج کرتا تھا۔ 2006ء میں کجریوال کو رامون سیسے ایوارڈ برائے ہنگامی قیادت حاصل ہوا۔ اس طرح بنیادی سطح پر پریورتن تحریک میں شمولیت کو تسلیم کیا گیا۔ وہ ایک عوامی آدمی ہے۔ عوام کے درمیان سے اٹھے ہیں۔ ان کے کام کی عوام ستائش کرتے ہیں جس کے نتیجہ میں دوسری بار انہیں دہلی اسمبلی انتخابات میں زبردست کامیابی حاصل ہوئی ہے۔