سری نگر17دسمبر (سیاست ڈاٹ کام ) وشوا ہندو پریشد (وی ایچ پی) کی جانب سے ایودھیا میں بابری مسجد کے متنازعہ مقام پر رام مندر کی تعمیر کے لئے بنائی گئی کمیٹی کے سربراہ ہنس دیو آچاریہ نے کہا کہ جو لوگ ایودھیا میں بابری مسجد بنانا چاہتے ہیں وہ اس ملک سے نکل جائیں۔ انہوں نے جموں وکشمیر کا نام لئے بغیر کہا کہ ہم یہاں دو آئین اور دو جھنڈوں کی اجازت نہیں دیں گے ۔ہنس دیو آچاریہ نے ریاستی گورنر ستیہ پال ملک کی خوب تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ریاست میں جنگجوؤںکی حمایت والی سرکار کو نہیں بننے دیا۔ ان کا اشارہ پی ڈی پی، نیشنل کانفرنس اور کانگریس کے حالیہ گرینڈ الائنس کی طرف تھا۔آچاریہ نے کہا کہ گورنر کی جانب سے ریاست میں جنگجوؤںکی حمایت والی سرکار کو بننے سے روکنا جموں وکشمیر میں ہندو توا کی جیت ہے ۔ انہوں نے بی جے پی حکومت کے اچھے دنوں پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اس سے اچھے دن کیا ہوسکتے ہیں کہ کشمیر میں پتھربازوں کو مارا جارہا ہے ۔ہنس دیو آرچاریہ جموں کے پریڈ گراؤنڈ میں اتوار کو وی ایچ پی کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی ‘دھرم سبھا (مذہبی کانفرنس)’ سے خطاب کررہے تھے ۔دھرم سبھا میں سرکردہ ہندو سادھوؤں اور سنتوں کے علاوہ ہندو مذہب کے سینکڑوں پیروکاروں نے شرکت کی۔مہنت دنیش بھارتی جنہوں نے سنہ 2008 ء کے امرناتھ زمین تنازعہ کی ایجی ٹیشن کے دوران وادی کشمیر کی اقتصادی ناکہ بندی کرنے میں ایک نمایاں کردار ادا کیا تھا، نے دھرم سبھا سے خطاب کرتے ہوئے ہندوؤں سے اپیل کی کہ ‘ہر ہندو پانچ بچے پیدا کریں’۔ انہوں نے کہا کہ ہر ہندو نہ صرف پانچ بچے پیدا کریں بلکہ ہر ایک بچے کے ہاتھ میں ہتھیار دیں۔وی ایچ پی کی اس دھرم سبھا میں بی جے پی ریاستی یونٹ کے سینئر لیڈران بشمول ریاستی صدر رویندر رینہ، سابق ریاستی صدر ست شرما، ممبر پارلیمنٹ جگل کشور شرما، سابق وزرائشام چودھری، چندر پرکاش گنگا اور جموں کے میئر چندر موہن گپتا موجود تھے ۔بی جے پی ریاستی صدر رویندر رینہ نے دھرم سبھا کے حاشئے پر نامہ نگاروں کو بتایا کہ ‘ہنس دیو آچاریہ جی نے بتایا کہ اگلے سال 31 جنوری کو رام مندر کی تعمیر کا اعلان ہوگا، جس دن آچاریہ جی اعلان کریں گے ، اسی دن مندر کی تعمیر شروع ہوگی’۔دھرم سبھا میں اپنی تقریر کے دوران مہمان خصوصی ہنس دیو آچاریہ جو کہ اکھل بھارتیہ سنت سمیتی کے سرپرست بھی ہیں، نے مسلمانوں کی درگاہوں پر اشتعال انگیز تبصرہ کیا۔ ان کا کہنا تھا ‘لوگ کہتے ہیں کہ رام مندر کی تعمیر میں دیری کیوں۔ یہ وشو ہندو پریشد ہمیں بیوقوف بنارہی ہے ۔ سادھو سنت بے کار ہیں۔ اچھا یہ بتا[؟] کہ مندر بنانا ہے یا کوئی درگاہ بنانی ہے ۔ درگاہ تو چار اینٹیں ڈالو، کتا مرا پڑا ہے چادر ڈال دو،درگاہ بن گئی۔ ہمیں ایک عظیم الشان مندر بنانا ہے ۔ ہمیں کوئی چھوٹی سے چھونپڑی نہیں بنانی۔ مندر ایک تاریخی اور مثالی بنانا ہے ۔ اس کے لئے اتنے پتھر چاہیے کہ ایک دن میں ان پتھروں کی سجاوٹ کا کام مکمل نہیں ہوگا’۔ہنس دیو آچاریہ نے کہا کہ جو لوگ ایودھیا میں بابری مسجد بنانا چاہتے ہیں وہ اس ملک سے نکل جائیں۔ ان کا کہنا تھا ‘ایک بات اور کہہ دوں، قانون بنے یا نہ بنے ، اجازت ملے یا نہ ملے ، سپریم کورٹ چلائے ، ملے چلائے ، یہ سیکولر جماعتیں چلائیں، جس دن یہ ہمیں بتائیں گے کہ پتھر تیار ہیں، ڈھانچہ (بابری مسجد) توڑنے کا مہورت نہیں نکالا تھا۔