بیدر /9 جون ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) ریاست کے تمام طبقوں کے غریب ، نچلی سطح پر زندگی گذارنے والوں اور درمیانی طبقہ کے افراد کو بہتر ہیلتھ سہولت فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے ۔ جس کے پیشنظر حکومت پوری سنجیدگی کے ساتھ اس بات پر غور کر رہی ہے کہ عوام کی صحت کی حفاظت کیلئے گروپ انشورنس اسکیم شروع کی جائے ۔ آج سنٹرل کالج گنانا جیوتی آڈیٹوریم میں کوآپریٹیو اداروں کے ممبروں کیلئے یشونی ہیلتھ اسکیم کا جراء کرتے ہوئے وزیر اعلی سدرامیا نے یہ اعلان کیا ہے کہ حکومت نے دیہی علاقوں کے بعد اب شہری علاقہ کے لوگوں کیلئے مفت علاج اور آپریشن کیلئے سہولت فراہم کی ہے ۔ ساتھ ہی تمام طرح کے آٖریٹیو اداروں کے ممبرس کیلئے بھی یشونی ہیلتھ اسکیم شروع کرنے کے بعد اب تمام طبقہ کے لوگوں کیلئے گروپ ہیلتھ انشورنس اسکیم شروع کرنے کے بارے میں غور کیا جارہا ہے ۔ آج جو شہری کوآپریٹیو اداروں کیلئے ممبروں کیلئے یشونی ہیلتھ اسکیمے شروع کی گئی ہے اس اسکیم سے ریاست کے ساڑھے چھ کروڑ لوگوں کو فائدہ پہونچنے والا ہے ۔ یشونی ہیلتھ اسکیم کے تحت 823 سے زائد اقسام کی بیماریوں کے علاج اور آپریشن کی مفت سہولت فراہم ہوگی ۔ اگر ضرورت محسوس ہوگی تو مزید کئی بیماریوں کے علاج کیلئے بھی اس اسکیم سے سہولت فراہم کی جائے گی ۔ وزیر اعلی نے کہا کہ لوگ ڈاکٹر کو اپنا مسیحا اور بھگوان کا درجہ دیتے ہیں ۔ اس لئے ڈاکٹروں کو چاہئے کہ وہ خدمت کے جذبہ اور عوام کے اس اعتماد پر پورا اترنے کی کوشش کریں ۔ ڈاکٹرس صرف روپیہ کمانے کی نیت سے کام نہ کریں بلکہ غڑیب مریضوں کی زندگی کی پریشانیوں کا احساس کرکے ان کے علاج پر پوری توجہ دیں اور ان سے خلوص اور محبت کا برتاؤ کریں۔ ڈاکٹروں کی یہ ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ مرض کا پتہ لگاکر ان کا بہتر علاج کریں ۔ بعض ڈاکٹر اصل مرض کا پتہ لگائے بغیر علاج کرتے ہیں یہ غیر مناسب بات ہے ۔ یشونی اسکیم کو شروع کئے گئے 11 سال گذر چکے ہیں ۔ اس معیاد میں ساڑھے چھ لاکھ مریضوں نے اپنا علاج اور آپریشن کروایا ہے ۔ سرکاری اسپتالوں میں حکومت نے ماہر ڈاکٹروں کا تقرر کیا ہے ۔ ان ڈاکٹروں کو اپنی سماجی ذمہ داریوں کا اسحسا کرکے کام کرنا ہوگا لیکن زیادہ تر ڈاکٹروں میں اس احساس کی کمی محسوس کی جارہی ہے ۔ اجلاس کے دوران وزیر اعلی اور وزیر بڑے کوآپریشن مہادیو پرساد و دیگر مہمانوں کے ہاتھوں کوآپریٹیو اداروں کے ممبروں کو یشونی ہیلتھ کارڈ تقسیم کئے گئے اور بہتر خدمت انجام دینے والے کوآپریٹیو اداروں کے ممبروں کو تہنیت پیش کی ۔ وزیر برائے کوآپشن ایچ ایس مہادیو پرساد نے خطاب کرتا ہوئے کہا کہ سٹی اور ٹاون کوآپریٹیو اداروں میں 75 لاکھ ممبرس ہیں ۔ اس سال کے دوران 30 تا 40 لاکھ ممبرس یشونی ہیلتھ اسکیم سے فائدہ اٹھائیں گے ۔ 823 طرح کی بیماریوں کا 543 اسپتالوں میں علاج کیلئے اس اسکیم سے سہولیت فراہم کی گئی ہے پہلے یہ اسکیم صرف دیہی إوآپریٹیو اداروں کے ممبرس کیلئے تھی آج سے شہری کوآپریٹیو اداروں کے ممبرس ایک ہزار روپئے سالانہ فیس ادا کرکے یشونی کارڈ حاصل کرسکتے ہیں اور سالانہ 2 لاکھ روپئے تک کے علاوج اور آپریشن کی سہولت پاسکتے ہیں ۔ اگلے سال اس اسکیم کو اور بہتر بنانے اس میں ترمیمان کی جائیں گی ۔ وزیر برائے حج و اطلاعات مسٹر روشن بیگ نے اپنی صدارتی تقریر میں کہا کہ حکومت ایسی ہیلتھ انشورنس اسکیم جاری کرے جس سے عوام کے ہر چھوٹے سے چھوٹے بطقہ کے افراد کو بھی فائدہ پہونچے اور مناسب ترین خرچ پر علاج کی سہولت بہم پہونچائی جائے ۔ روشن بیگ نے افسوس ظاہر کیا کہ چند پرائیٹ اسپتالوں میں مریضوں کا ا ستحصال کیا جارہا ہے ۔ اس پر روک لگانی ضروری ہے ۔ کوآپریٹیو اداروں کے تمام افراد کیلئے مفت علاج کی سہولت کا موقع فراہم کیا جائے ۔ سکریٹری برائے کوآپریشن ڈاکٹرس سوم شیکھر ڈاکٹر این ایس چنا گوڈا وغیرہ اس اجلاس میں حاضر تھے ۔