ہریانہ میں منوہر لال کھتر حکومت کی آج حلف برداری

چندی گڑھ 25 اکٹوبر ( سیاست ڈاٹ کام ) ہریانہ میں چیف منسٹر کی حیثیت سے منوہر لال کھتر کی حلف برداری تقریب کل پنچ کولہ میں منعقد ہوگی ۔ یہاں بی جے پی کو اسمبلی انتخابات میں سادہ اکثریت حاصل ہوگئی ہے ۔ تقریب حلف برداری میں وزیر اعظم نریندر مودی اور کئی دوسرے سینئر بی جے پی قائدین شرکت کرینگے ۔ ہریانہ بی جے پی کے ترجمان ویر کمار یادو نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے علاوہ بی جے پی سربراہ امیت شاہ ‘ کچھ مرکزی وزرا ‘ بی جے پی اقتدار والی ریاستوں کے چیف منسٹرس اور سینئر لیڈر کل منعقد ہونے والی تقریب حلف برداری میں شرکت کرینگے ۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر کھتر پنچ کولہ میں ہونے والی تقریب میں حلف لیں گے جس میں چیف منسٹر پنجاب پرکاش سنگھ بادل بھی شرکت کرنے والے ہیں۔ دوسرے قائدین میں سبکدوش ہونے والے چیف منسٹر بھوپیندر سنگھ ہوڈا کو بھی تقریب میں شرکت کیلئے مدعو کیا گیا ہے ۔ پہلے فیصلہ کیا گیا تھا کہ حلف برداری کی تقریب تاؤ دیوی لال اسٹیڈیم میں منعقد ہوگی تاہم اسے تبدیل کردیا گیا ہے اور اب یہ تقریب پنچ کولہ میں حڈا گراونڈ سیکٹر 5 میں منعقد کی جا رہی ہے ۔ کل ہونے والی حلف برداری تقریب کیلئے وسیع تر انتظامات کئے جا رہے ہیں جن میں نہ صرف اعلی سیاسی قائدین بلکہ بی جے پی ورکرس کی بھی کثیر تعداد کی شرکت کی توقع کی جا رہی ہے ۔

ہریانہ کے چیف سکریٹری شکنتلہ جاکھو اور ڈائرکٹر جنرل پولیس ایس این وششت ‘ پنچ کولہ کے ڈپٹی کمشنر ایس ایس پھولیا نے آج انتظامات کا جائزہ لینے ایک اجلاس منعقد کیا ۔ ہریانہ کے سینئر بی جے پی قائدین بھی اس اجلاس میں شریک رہے اور انتظامات کا جائزۃ لیا تاکہ یہ تقریب پرسکون انداز میں منعقد ہوسکے ۔ پولیس کی جانب سے سکیوریٹی کے بھی سخت ترین انتظامات کئے جا رہے ہیں کیونکہ اس میں وزیر اعظم بھی شرکت کرنے والے ہیں۔ کہا گیا ہے کہ تقریب حلف برداری کیلئے تین ہزار پولیس اہلکاروں کی خدمات حاصل کی جا رہی ہیں۔

ہریانہ بی جے پی کا ادعا ہے کہ اس تقریب میں ایک لاکھ افراد شرکت کرسکتے ہیں۔ حڈا گراونڈ تک جانے والی سڑکوں کی مرمت کا کام بھی کیا جارہا ہے ۔ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم دہلی سے بذریعہ طیارہ چندی گڑھ ائرپورٹ پہونچیں گے اور پھر وہاں سے حلف برداری کے مقام کو روانہ ہوجائیں گے ۔ ماضی کی روایات سے انحراف کرتے ہوئے اس بار حلف برداری کی تقریب پنچ کولہ میں منعقد کی جا رہی ہے جو ہریانہ میں ہے ۔ اس سے قبل حلف برداری چندی گڑھ میں ہوا کرتی تھی جو پنجاب اور ہریانہ کا مشترکہ دارالحکومت ہے ۔ بی جے پی نے ہریانہ اسمبلی انتخابات میں شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے اقتدار حاصل کیا تھا ۔ 1966 میں بی جے پی کے قیام کے بعد سے ہریانہ میں پہلی مرتبہ بی جے پی کو اقتدار ملا ہے ۔ 90 رکنی اسمبلی میں بی جے پی کو 47 نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی ہے ۔
انڈین نیشنل لوک دل کو 19 اور کانگریس کو 15 حلقوں سے کامیابی ملی تھی جبکہ ہریانہ جن ہت کانگریس نے دو نشستیں حاصل کی تھیں۔ واضح رہے کہ بی جے پی نے انتخابات کے دوران کانگریس کی صدر سونیا گاندھی کے داماد رابرٹ واڈرا کی اراضی معاملتوں کو موضوع بحث بنایا تھا اور انتخابات میں کامیابی کے بعد اس نے اشارہ دیا ہے کہ حکومت سنبھالنے کے بعد بی جے پی واڈرا کی اراضی معاملتوں کی تحقیقات کریگی ۔ اس سلسلہ میں وزیر فینانس ارون جیٹلی نے کہا تھا کہ واڈارکی جو اراضی معاملتیں رہی ہیں وہ قوانین کے مطابق نہیں کہی جاسکتیں کیونکہ انہیں بہت جلد ترقی ہوئی ہے ۔ اس میں انہیں سرکاری مدد حاصل رہی تھی ۔ ان حالات میں ہوسکتا ہے کہ بی جے پی ان معاملات کی تحقیقات کا اعلان بھی کرے ۔