نئی دہلی ۔24 جولائی ۔( سیاست ڈاٹ کام ) سابق مرکزی وزیر شردیادو نے ہجومی تشدد میں بے قصور افراد کی ہلاکتوں کیلئے آج بی جے پی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہاکہ اکثر مسلم ہی ایسے واقعات کاشکار ہورہے ہیںجس سے ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان پھوٹ ڈالنے اس زعفرانی جماعت سے ملحقہ تنظیموں کے ایجنڈہ کا اظہار ہوتا ہے ۔ انھوں نے ہجومی تشدد میں ہلاکتوں کے واقعات کی سپریم کورٹ کے برسرخدمت جج کے ذریعہ تحقیقات کروانے کا مطالبہ کیا۔ یادو نے پارلیمنٹ کے باہر دیئے گئے اپنے بیان میں کہا کہ ’’ہجومی تشدد کے ہاتھوں افراد کی ہلاکتوں کے مسئلہ پر حکومت کے بیان پر کوئی بھی یقین نہیں کریگا کیونکہ اب یہ روزمرہ کا معمول بن گیا ہے۔ بی جے پی زیراقتدار ریاستوں میں اس قسم کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے‘‘۔ شردیادو نے کہاکہ حالیہ عرصہ تک کوئی بھی ’لنچنگ‘ (ہجومی تشدد ) کے لفظ سے واقف تک نہیں تھا لیکن اب یہی لفظ گھر گھر میں حرف عام ہوچکا ہے ۔ انھوں نے الزام عائد کیا کہ راجستھان کے ضلع الور میں ہجوم کے ہاتھوں ایک شخص کی ہلاکت میں ملوث نام نہاد گاؤ رکھشکوں کا تعلق حکمراں جماعت سے تھا ۔